کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسئلہ کے متعلق کہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ جو کہ صارف کی ٹیلی نار سم پر اوپن ہوتا ہے اور اس سم کا نمبر ہی جو کہ ۱۱ ؍ہندسوں کا ہوتا ہے اکاؤنٹ نمبر شمار ہوتا ہے اس میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ کمپنی کی طرف سے اس اکاؤنٹ میں رقم جمع کروانا فری ہے چاہیں آپ اس کمپنی کی فرنچائز سے کروائیں یا کسی بھی کمیونیکیشن دوکان سے لیکن بعض دوکاندار دار رقم جمع کروانے پر چارجز لیتے ہیں سروس چارجز کے نام پر مثلاً ۱۰۰ روپے جمع کروانے ہیں تو ۱۰ روپے ادا کرنے ہوں گے اسی طرح ہر ۱۰۰۰ پر ۱۰ روپے بڑھتے جائیں گے، تو عرض ہے کہ یہ چارجز وصول کرنا صحیح ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ جو دوکاندار (ریٹیلر) عام صارفین کو مذکور خدمات مہیا کرتے ہیں وہ ان خدمات پر معاوضہ وصول کرنے کے حقدار ہیں، اگر اس سروس کے عوض میں کمپنی کی طرف سے معاوضہ نہ ملتا ہو تو مذکور سروس مہیا کرنے کیلئے معاوضۃً عام صارفین کی رقوم سے کٹوتی کرنا جائز ہے، البتہ اگر اس سروس کیلئے کمپنی معاوضہ دیتی ہو یا کمپنی سے ان کا معاہدہ عام صارفین سے کٹوتی نہ کرنے کا ہوا ہو تو ایسی صورت میں عام صارفین یا اکاؤنٹ ہولڈرز سے رقم منتقلی یا رقم جمع کروانے پر چارجز وصول کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا۔
ففی فقہ البیوع: أما المسئلۃ الأولیٰ: (إلیٰ قولہ) فإنہ یتقاضٰی نوعین من الرسوم (إلی قولہ) واعتبر العلماء المعاصرون النوع الأوّل من الرسوم أجرۃ لإصدار البطاقۃ الذی یحتاج إلٰی الإجراءات والخدمات الّتی یقدمھا مصدر البطاقۃ من فتح ملف العمیل عندہٗ وإجراء حسابہ وتعریف الجھات الّتی سیحتاج إلٰی التعامل معھا۔ اھـ (ج١، ص٤٥٥)
وفی الفقہ الإسلامی وأدلتہ: ومن استأجر أجیرًا لخدمتہ فیکون خاصًا إذا شرط علیہ أذلا یخدم غیرہٗ، ولو عمل لغیرہٖ نقص من أجرتہ بقدر ما عمل۔ الخ (ج٢، ص٨٩)
وفی مصنف غیرہٗ، ولو عمل لغیرہ نقص من أجرتہ بقدر ما عمل۔ الخ (ج٢، ص٨٩)
وفی مصنف ابن أبی شیبۃ: عن مجاھد قال: قال رسول اللہ ﷺ ’’ثلاث من کنّ فیہ فھو منافق: الذی ںذا حدث کذب، وإذا اؤتمن خان، وإذا وعد أخلف‘‘۔ اھـ (ج٥، ص٢٣٧)
وفی شرح المجلۃ لمحمد خالد الأتاسی: المادۃ ٧٢٥: [کل من الراھن أو المرتھن إذا صرف علٰی الرھن ما لیس علیہ بدون إذن الآخر یکون متبرعًا ولیس لہ أن یطالب الآخر بما صَرَفہ] کما إذا قضٰی دین غیرہ بغیر أمرہٖ۔ اھـ (ج٣، ص١٦٧) واللہ اعلم بالصواب