میں ایک تنخوادارآدمی ہوں، میرے پاس تین ملین روپے ہیں، میرے پاس کاروباریا دیگر کام کرنے کاوقت نہیں ہے، کرنٹ اکاونٹ میں رکھتے ہوئے روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے میری رقم کی ویلیوکم ہورہی ہے۔ کیا اس رقم کے ذریعہ سونا خریدنا یا کسی غیرملکی کرنسی کا اکاونٹ کھلواکر اس میں رکھنا درست نہیں ہے؟ میری رقم کو محضوظ کرنے کے لیے حلال اور جائز طریقہ کیاہے؟ تاکہ اس کو محفوظ کرکے اس کے ذریعہ میرے بچوں کی پڑھائی اور مستقبل کے لیے کام آسکے۔
سائل اگر اپنی رقم کی ویلیوں محفوظ کرنے کے لیے باقاعدہ سوناخریدکرخود اپنے پاس یاکسی بینک لاکر میں رکھ لے، یا بینک میں کسی غیرملکی کرنسی کا کرنٹ اکاونٹ کھلوا کر اس میں یہ رقم رکھ لے ، تو اس میں شرعابھی کوئی حرج نہیں، بلکہ بلاشبہ جائز اور درست ہے۔ تاہم اس رقم کو فاریکس وغیرہ کے آن لائن کاروبارکے ذریعہ سونے ،کسی غیرملکی کرنسی یابٹ کوئین وغیرہ کی خریداری کے لیے استعمال کرنا غیرشرعی ہونے کے ساتھ ساتھ غیرمحفوظ بھی ہے، جس سے احتیاط لازم ہے۔