کیا فر ماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ہمارا آن لائن کاروبار ہے ،جس کی صورت یہ ہے کہ ہم اشیا ء کی تصویر اور ویڈیوز اپنے فیس بک پیچ یا ویب سائٹ پر لگا تے ہیں ،آرڈر آنے کی صورت میں جس کمپنی کی یا جس دکان دار کی اشیا ء ہوتی ہیں ، اس کمپنی کو ، جس بندے نے آرڈر دیا ہے اس کی مکمل تفصیل (نام ،موبائل نمبر ،مکمل پتہ ،اور قیمت فروخت) بتادی جاتی ہے ، اب کمپنی یا دکاندار کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذکورہ شئی کو مشتری تک (کسٹمر تک ) پہنچائیں اور قیمتِ فروخت وصول کریں ،مثال کے طور پر کمپنی نے مذکورہ شئی کی قیمت 2500 روپے مقرر کی ہے ، اب ہم اس میں اپنا منافع رکھ کر ، اپنے فیس بک پیچ یا ویب سائٹ پر لگا دیتے ہیں یعنی 3000 روپے قیمت لگا دیتے ہیں ،جب ہمارے پاس آرڈر آتا ہے ، تو ہم کمپنی کو 2500 روپے اور کسٹمر کی مکمل ڈیٹیل بھیج دیتے ہیں ،اب کمپنی مذکورہ شئی کو ڈائریکٹ کسٹمر تک پہنچا کر اس سے 3000 روپے وصول کرلیتی ہے ، اور ہمارا منافع (500) ہمارے اکاؤنٹ میں بھیج دیتی ہے ،مذکور شئی ہمارے قبضے میں نہیں آتی ، لیکن مشتری کو بھیجوانے سے پہلے ہم اس شئی کی قیمت ادا کرچکے ہوتے ہیں ، اب آیا یہ (500) جو ہمارا منافع ہے ، یہ ہمارے لۓ جائز ہے یا نہیں ؟ اب اس کی ایک اور صورت یہ بھی ہے کہ ہم کمپنی کو کسٹمر کی مکمل ڈیٹیل اور قیمتِ فروخت بتا دیتے ہیں ، اور مذکورہ شئی کی قیمت ادا نہیں کرتے ، کمپنی پہنچا کر کسٹمر سے قیمتِ فروخت وصول کرکے ہمارا منافع ہمارے اکاؤنٹ میں بھیج دیتی ہے ،براہ مہربانی ان دونو ں صورتوں کا حکم کیا ہے ؟
نوٹ : آرڈر آنے کی صورت میں مطلوبہ شئی ، ہم کمپنی یا دکاندا ر سے خرید لیتے ہیں اور اس کی قیمت مثلاً 2500 روپے بھیج دیتے ہیں ،کمپنی یا دکاندار کو وکیل بناتے ہیں کہ وہ کسٹمر تک شئی پہنچا کر ، قیمتِ فروخت وصول کر لے ،اور دوسری صورت میں ہم کمپنی یا دکاندار کو صرف کسٹمر کی تفصیل بھیج دیتے ہیں اور کسٹمر سے بھی یہی کہتے ہیں کہ آپ کی مطلوبہ شئی ہم دلواسکتے ہیں ، پھر کمپنی وہ شئی کسٹمر تک پہنچا کر قیمتِ فروخت وصول کر لیتی ہے اور منافع ہمیں بھیج دیتی ہے ،جبکہ دوسری صورت میں ہمارا منافع کمپنی یا دکاندار کی طرف سے متعین نہیں ہوتا ، بلکہ وہ ہم خود کسٹمر سے ڈیل کرتے ہیں۔
واضح ہو کہ خرید و فروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے ، وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو ،اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچ رہا ہو ، جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے ،تو بیع درست نہیں ہوگی بلکہ باطل اور کالعدم شمار ہوگی ،لہذا سوال میں ذکر کردہ دوسری صورت میں چونکہ سائل ،کمپنی سے وہ مطلوبہ چیز خریدے بغیر ہی اپنا منافع رکھ کر آگے گاہک (کسٹمر ) کو فروخت کر دیتا ہے ،اس لئے یہ صورت درست نہیں،اسی طرح پہلی صورت میں بھی اگرچہ سائل کمپنی سے مطلوبہ چیز خرید کر آگے گاہک کو فروخت کر دیتا ہے ،اور پھر کمپنی کو وہ چیز گاہک تک پہنچا نے کا وکیل بناتا ہے ،لیکن سوال میں ذکر کردہ تفصیل سے معلوم ہوتا ہے ،کہ اس پہلی صورت میں بھی وہ مطلوبہ چیز کمپنی سے خریدنے کے بعد سائل یا سائل کے کسی وکیل کے قبضے اور ضمان (رسک) میں نہیں آتی ،اور احادیثِ مبارکہ میں کسی چیز پر قبضہ کرنے سے قبل ، اسے آگے فروخت کردینے سے منع فرمایا گیا ہے ،اس لئے سوال میں ذکر کردہ پہلی صورت بھی شرعاً درست نہیں ،البتہ اس کے جواز کی ایک صورت تو یہ ہے کہ سائل معاملہ کی ابتداء میں اپنے گاہک کو یہ نہ کہے کہ یہ چیز میں آپ کو بیچ رہا ہو ں ،بلکہ یہ کہے کہ یہ چیز بیچنے کا معاہدہ کرتا ہوں ،اس طرح یہ بیع نہیں بلکہ وعدۂ بیع ہو جاتا ہے ،پھر وہ کمپنی یا د کاندار سے مطلوبہ آئٹم خرید کر خود یا بذریعہ وکیل ، حسی یا معنوی قبضہ میں اس طورپر لے کہ وہ سائل کے ضمان (risk) میں آجائے ،تب وہ خریدار کو فروخت کرکے ڈیلیور کردے ،جبکہ دوسری صورت یہ ہے کہ سائل کمپنی یا دکاندار کا وکیل بن کر ان کے پرا ڈکٹ فروخت کرے ،اور اپنے اس عمل پر کمپنی اور دکاندار سے طے شدہ اجرت وصول کرے ، تو اس صورت میں اصل بائع دکاندار ہوگا اور سائل کی حثیت ایک وکیل (اور ایجنٹ ) کی ہوگی، چنانچہ اس صورت میں سائل کیلئے اپنی محنت کے عوض طے شدہ اجرت لینا جائز اور درست ہو گا۔
فی الهداية :و لا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد" لأنه باع مالا يملكه "و لا في حظيرة إذا كان لا يؤخذ إلا بصيد لأنه غير مقدور التسليم (الیٰ قولہ ) و لا بيع الطير في الهواء" لأنه غير مملوك قبل الأخذ ، (3/44)۔
و فی الدر المختار : و أما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع و إن سعى بينهما و باع المالك بنفسه يعتبر العرف الخ
و فی رد المحتار : تحت (قوله : يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين .(4/560)۔
و فی فتح القدير : و مثل الأمر المضارع المقرون بالسين نحو سأبيعك فلا يصح بيعا و لا يتجوز به في معنى بعتك في الحال . (6/251)۔