السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ (١)کیش بیک کا حکم کیا ہے اگر زید نے اپنے موبائل سے بکر کے لئے کوئی چیز منگائ جس پر زید کو کیش بیک ملا تو وہ کس کا زید کا یا بکر کا جیسے زید کے نام پر گیس سلنڈر ہے لیکن اس کو بوٹل کی ضرورت نہیں اور بکر کو بوٹل کی ضرورت ہے تو بکر نے بوٹل بھروایا تو اس پر سبسیڑی جو ملتی ہے وہ کس کی زید کی یا بکر کی (۲) زید نے گھر بنایا اس کے پاس میں بکر کا پلاٹ ہے اس کو ابھی گھر بنانے کی ضرورت نہیں ہے اور زید نے گھر بناتے وقت اجازت لے لی کہ میں بنا رہا ہوں اور وہ دیوارجو بکر کےپلاٹ کی جانب تھی اس کا خرچہ نصف نصف ہوگا اب بکر کو دس سال کے بعد گھر بنانے کی ضرورت پڑی تو اس دیوار کا خرچہ کس حساب سے نکالے جس وقت زید نے گھر بنایا اس وقت کی قیمت یا جس وقت بکر گھر بنا رہا ہے اس حساب سے
(۱)۔ واضح ہو کہ موبائل کے کسی بھی آئن لائن ایپ (جاز کیش، ایزی پیسہ وغیرہ) کے ذریعے خریداری وغیرہ کر کے بعض دفعہ جو کیش بیک ملتا ہے، چونکہ وہ کمپنی کی طرف سے اکاؤنٹ ہولڈر کو متعلقہ ایپ کے استعمال کی بناء پر فراہم کیا جاتا ہے، اس لیے کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ کیش بیک اکاؤنٹ ہولڈر کا حق ہوتا ہے، اگرچہ اس نے دوسرے شخص کے لیے خریداری کی ہو۔
(۲)۔ زید اور بکر کے درمیان مذکور دیوار کی تعمیر پر آنے والے اخرجات کے متعلق جو معاہدہ ہوا تھا، اسی کے مطابق مذکور دیوار پر دس سال قبل جتنا خرچہ آیا تھا، وہ دونوں کے ذمہ آدھا آدھا لازم ہوگا۔
کما فی البحر الرائق: (قولہ کتاب الہبۃ) ھی لغۃ التفضل علی الغیر بما ینفعہ ولو غیر مال و اصطلاحا ما اشار إلیہ المصنف بـ (قولہ ھی تملیك العین بلا عوض)۔ اھ (۷/۲۸۴)
وفی حاشية ابن عابدين: وبهذا ظهر أنه لو كانت الدراهم فضتها خالصة أو غالبة كريال الفرنجي في زماننا فالواجب رد مثلها، وإن كانا في بلدة أخرى، لأن ثمنية الفضة لا تبطل بالكساد، ولا بالرخص أو الغلاء ويدل عليه ما قدمناه عن كافي الحاكم من أنه لا ينظر إلى غلاء الدراهم، ولا إلى رخصها هذا ما ظهر لي فتأمل وانظر ما كتبناه أول البيوع اھ(5/ 163)
وفی بدائع الصنائع: ولو لم تکسد، ولکنہا رخصت قیمتہا أو غلت لا ینفسخ البیع بالإجماع، وعلی المشتری أن ینقد مثلہا عددا، ولا یلتفت إلی القیمۃ ھہنا، لأن الرخص أو الغلاء لا یوجب بطلان الثمنیۃ ألا تری أن الدراھم قد ترخص، وقد تغلو وھی علی حالہا أثمان؟ ثم اختلف ابو یوسف، و محمد فیما بیھما فی وقت اعتبار القیمۃ، فاعتبر ابو یوسف وقت العقد، لأنہ وقت وجوب الثمن، واعتبر محمد وقت الکساد، وھو أخر یوم ترك الناس التعامل بھا، لأنہ وقت العجز عن التسلیم۔ اھ (۵/۲۴۲)
وفی تبیین الحقائق: (قولہ: فی المتن ولو کسدت الخ) وإنما قید بالکساد احترازا عن الرخص والغلاء، لأن الإمام الإسبیجابی ذکر فی شرح الطحاوی وأجمعوا أن الفلوس إذا لم تکسد ولکن غلت قیمتہا أو رخصت فعلیہ مثل ما قبض من العدد اھ (۴/۱۴۳)