میں ایک سافٹ وئیر کمپنی میں کام کرتا ہوں , وہ بینک کا پروجیکٹ کررہا ہے , کیا وہاں ملازمت کرنا صحیح ہے؟
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور کمپنی میں اس کی اصل ذمہ داری کیا ہے تاکہ اس کے مطابق حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاتا ، تاہم اگر سائل کا مذکور کمپنی میں براہِ راست سودی لین دین سے تعلق نہ ہو تو سائل کیلئے مذکورکمپنی میں ملازمت کرنا اور تنخواہ لینا جائز اور درست ہے،تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو سوال مکمل تفصیل کے ساتھ لکھ کر دوبارہ ارسال کردیں،ان شاءاللہ غور وفکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کردیا جائیگا۔
کما فی تکملۃ فتح الملھم : ”و کاتبہ“ لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ، و من ھنا ظھر ان التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز ، فان کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا ،کالکتابۃ او الحساب فذلک حرام لوجھین : الاول اعانۃ علی المعصیۃ ، و الثانی: اخذ الاجرۃ من المال الحرام فان معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا ، و اما اذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فانہ حرام للوجہ الثانی فحسب ، فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال ، جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الاعمال ، اھ(1/219)