میں عرب امارات میں کام کر رہا ہوں ، میں غریب کی مدد کے لئے بینک سے قرض لینا چاہتا ہوں ، کہ میں ایسا کام کروں پاکستان میں جس سے غریبوں کو کام مہیا کروں، اپنے شخصی مفاد کے لئے نہیں، کیا میں ایسا کروں ؟
غریب طبقہ کی مدد کرنے کی نیت سے سودی قرضہ اٹھانا تو درست نہیں ، البتہ اگر سائل کو بلا سود قرض ملتا ہو اور قرض لے کر غریبوں کی مدد بھی کر سکتا ہو اور قرض واپس بھی کر سکتا ہو، تو اس کے لئے قرض لے کر کوئی کام شروع کرنا جائز اور درست ہونے کے ساتھ باعث اجر بھی ہو گا، ورنہ حتی الامکان قرض لینے سے احتراز کرنا چاہیے۔
كما في تفسير ابن كثير؛ وقوله تعالى: وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان يأمر تعالى عباده المؤمنين بالمعاونة على فعل الخيرات وهو البر اھ (3/ 10)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: «نهى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عن قرض جر نفعا» اھ (6/ 83) والله اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1