السلام علیکم برائے مہربانی میرے سوال کا فتوی دیں، میری ساس کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، بڑا بیٹا30 سال سے سعودیہ اور ابھی دبئی میں کام کر رہا ہے اور مالی طور پر کافی مضبوط ہے، دوسرا بیٹا اسٹیل مل میں کام کرتا تھا اور میری ساس ان کے گھر میں رہتی ہے ، مگر ابھی سعودیہ میں وزٹ ویزے پر اپنے چھوٹے بیٹے کے پاس ہے، تیسرے نمبر پر جو بیٹے ہے وہ ریاض میں کام کرتا ہے، سب سے چھوٹا بیٹا مدینہ میں ڈاکٹر ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ تین بیٹے میری ساس کو بولتے ہیں کہ آپ اپنی بیٹیوں کے پاس چلی جاو، ساری بیٹیاں مالی طور پر ایسی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اپنی ماں کو اپنے ساتھ لمبے عرصے کے لیے رکھ سکیں، آپ سے عرض ہے کہ چار بیٹوں کے ہوتے ہوئے کیا بیٹیوں کی ذمہ داری بنتی ہیں ؟
سائل کے براد نسبتی جب مالی طور پر مستحکم ہیں اور اپنی والدہ کی دیکھ بھال اور خدمت پر بھی قادر ہیں تو ایسی صورت میں ان کے لیے والدہ کو اپنی بہنوں کے حوالے کر دینا درست نہیں، بلکہ ان پر لازم ہے کہ والدہ کا نان و نفقہ ، ان کی دیکھ بھال اور دیگر حقوق کو سعادت سمجھ کر پورے کرتے رہیں، ورنہ بصورت دیگر مواخذہ اخروی سے سبکدوشی نہ ہو سکے گی ۔
كما في صحيح البخاري: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، من أحق الناس بحسن صحابتي؟ قال: «أمك» قال: ثم من؟ قال: «ثم أمك» قال: ثم من؟ قال: «ثم أمك» قال: ثم من؟ قال: «ثم أبوك» اھ (8/ 2)
و فى الدر المختار: (و) تجب (على موسر) ولو صغيرا (يسار الفطرة) على الأرجح ورجح الزيلعي والكمال إنفاق فاضل كسبه. و في الخلاصة: المختار أن الكسوب يدخل أبويه في نفقته. و في المبتغى: للفقير أن يسرق من ابنه الموسر ما يكفيه إن أبى ولا قاضي ثمة وإلا أثم (النفقة لأصوله) ولو أب أمه ذخيرة (الفقراء) ولو قادرين على الكسب والقول لمنكر اليسار والبينة لمدعيه (بالسوية) بين الابن والبنت، وقيل كالإرث، وبه قال الشافعي (3/ 621 تا 623)
وفيه ايضا: والحاصل أنه يشترط في نفقة الأصول اليسار على الخلاف المار في تفسيره إلا إذا كان الأصل زمنا لا كسب له، فلا يشترط سوى قدرة الولد على الكسب. فإن كان لكسبه فضل أجبر على إنفاق الفاضل، وإلا فلو كان الولد وحده أمر ديانة بضم الأصل إليه، ولو له عيال يجبر في الحكم على ضمه إليهم. ولا يخفى أن الأم بمنزلة الأب الزمن؛ لأن الأنوثة بمجردها عجز، وبه صرح في البدائع، لكن صرح أيضا بأنه لا يشترط في نفقة الأصول يسار الولد بل قدرته على الكسب، وعزاه في المجتبى إلى الخصاف: وقد أكثرنا لك من النقل بخلافه لتعلم أنه غير المعتمد في المذهب اھ (3/ 622) والله اعلم بالصواب