میں نے ایک جگہ پڑھا ہے کہ سید نام کی کوئی قوم نہیں ،سید صرف ایک خطاب یا لقب ہے جس کے معنی سردار کے ہیں جیسے کہ ہم بولتے ہیں سیدنا امام حسین یعنی اعمال، تقوي، پر ہیز گاری میں ہم پر سردار (سید) ہیں ؟
کیا اولاد رسول میں سے کوئی اگر دین سے دوری اختیار کر لے گناہ کے رستے پہ چل نکلے تو اسے سید کہنا جائز ہے ؟ اور دوسرا یہ کہ اگر کسی اور ذات جیسے کہ موچی وغیرہ اگر اعمال تقوی و پرہیز گاری میں ہم سے زیادہ ہو تو اسے سید کا خطاب یا لقب سے پکار سکتے ہیں ؟
واضح ہو کہ سید وہ شخص کہلاتا ہے جو حضرت علی، حضرت جعفر ، حضرت عباس ، اور حضرت عقیل رضی اللہ عنہم " کی اولاد میں سے ہو ، جبکہ سادات کا کوئی فرد اگر گناہ میں مبتلا ہو تو وہ سادات سے خارج نہیں ہوتا، اسی طرح غیر سادات کا کوئی فرد اچھے اعمال کی وجہ سے سادات میں شامل نہیں ہو سکتا، یہ خاندانی شرافت ہے نہ کہ عملی،
البتہ سائل نے سید کا معنی سردار کے جو پڑھا ہے، وہ سید کا لفظی اور عرفی معنی ہے، نہ کہ شرعی معنی ، اور اس لفظی و عرفی معنی کے اعتبار سے کسی بھی خاندان کے شریف اور متقی آدمی کو سید کہنا شرعادرست ہے، مگر اس کی وجہ سے وہ سید خاندان کا فرد شمار نہیں ہو گا۔
کمافي الصحيح للإمام مسلم ابن الحجاج: (2108) حدثني زهير بن حرب، وشجاع بن مخلد (إلى قوله عليه السلام) ثم قال: «وأهل بيتي أذكركم الله في أهل يتي، أذكركم الله في أهل بيتي، أذكركم الله في أهل بيتي» فقال له حصين: ومن أهل بيته ؟ يا زيد أليس نساؤه من أهل بيته؟ قال: نساؤه من أهل بيته، ولكن أهل بيته من حرم الصدقة بعده، قال: ومن هم؟ قال: هم آل علي وآل عقيل وآل جعفر، وآل عباس قال: كل هؤلاء حرم الصدقة؟ قال: نعم اھ(۴/۱۸۷۳) باب فضائل علي بن أبي طالب)
وفي الكوكب الوهاج في شرح صحيح مسلم بن الحجاج لمحمد الأمين بن عبد الله الأرمي العلوي الهري الشافعي تحت الحديث: (ومن أهل بيته) صلى الله عليه وسلم: (يا زيد أليس نساؤه وأزواجه من أهل بيته) صلى الله عليه وسلم (قال) زيد: (نساؤه) وأزواجه من أهل بيته) وسكنه ولكن أهل بيته أي ولكن المراد بأهل بيته في هذا الحديث هم (من حرم) ومنع (الصدقة) أي من أخذ الصدقة والزكاة (بعده) صلى الله عليه وسلم (قال) حصین بن سيرة: (ومن هم أي ومن الذين حرموا ومنعوا من أخذ الصدقة (قال) زيد: هم آل علي وأولاده وإن سفلوا وآل عقيل بن أبي طالب كذلك وآل جعفر بن أبي طالب كذلك وآل عباس) بن عبد المطلب كذلك رضي الله عنهم أجمعين (قال) حصين لزید: ( كل هؤلاء المذكورين (حرم الصدقة قال زيد: (نعم) حرموا الصدقة اھ (۲۳/۴۵۶) -
وفي المعجم الوسيط : (السيد) المالك والملك والمولى ذو العبيد والخدم والمتولى الجماعة الكثيرة وكل من افترضت ام (۴/۳۶۱) باب السين) واللہ اعلم بالصواب