میری بیوی نے شادی کے ساڑھے چھ سال بعد خلع کا مقدمہ دائر کیا، ہمارے دو بچے ہیں، تقریباً دس مہینے تک واپس گھر نہ آنے کے بعد اس نے خلع کا کیس دائر کیا، اس دوران میں نے اپنی جانب سے کوشش کی کہ گھر بس جائے، طلاق کا مطالبہ ہو تا رہا لیکن میں نے طلاق نہیں دی، کیس فائل ہونے کے بعد میں نے خلع کے کیس کی معلومات حاصل کیں جس کے بعد میں نے ارادہ بنالیا کہ رشتہ ختم ہے اور میں خلع کیلئے راضی ہوں، آٹھ ماہ کے بعد فیملی کورٹ نے خلع کی ڈگری جاری کر دی ،سوال یہ ہے کہ کیس فائل ہونے کے بعد جب میں بھی راضی ہو گیا تھا اور میری بیوی بھی بضد تھی خلع کیلئے، کیا کورٹ کی ڈگری سے پہلے شرعی طور پر خلع ہو چکی تھی ؟ ہم دونوں کا ارادہ اور نیت اس رشتہ کو ختم کر دینے کا ہو چکا تھا، برائے مہربانی تفصیلاً وضاحت دیں۔
سائل اور اس کی بیوی نے اگر فقط خلع کا ارادہ کیا تھا با قاعدہ ایجاب و قبول کے ساتھ زبانی یا تحریری خلع کا معاملہ نہیں کیا تھا تو فقط نیت وارادہ سے خلع منعقد نہیں ہوا، بلکہ سائل اور اس کی بیوی حسب سابق میاں بیوی ہیں اور میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں،تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی مکمل وضاحت لکھ کر سوال کو دوبارہ بھیج کر حکم شرعی معلوم کر سکتے ہیں۔
كما في الهندية : الخلع إزالة ملك النكاح ببدل بلفظ الخلع كذا في فتح القدير(إلى قوله) (وحكمه) وقوع الطلاق البائن كذا في التبيين.(إلى قوله ) إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية. (488/1).
وفیھا ایضاً : وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه كذا في المحيط.(1/379)۔