السلام علیکم (1) کیا بیوی کےساتھ سیکس کرنے سے غسل فرض ہو جاتا ہے یا انزال ہو ناضروری ہے ؟
(2) اگر بیوی میکے گئی ہو اور شہوت ہو رہی ہو ، تو کیا کیا جا سکتا ہے؟ کیا بیوی کے بارے میں سوچ کر منی نکالنا جائز ہے ؟
(1) بیوی کے ساتھ سیکس (جماع) کرنے سے غسل واجب ہوتا ہے، خواہ انزال ہو یا نہ ہو، البتہ محض بوس و کنا ر سے غسل واجب نہیں ہوتا، جب تک کہ انزال نہ ہو جائے(2) ایسی صورت میں بیوی کو بلانا یا اس کے پاس چلا جانا چاہیئے ، تاکہ ممکنہ کسی بھی گناہ سے بچا جاسکے ، بیوی کے بارے میں سوچ کر ہاتھ وغیرہ سے منی خارج کرنا بھی گناہ ہے ، جس سے بہر حال احتراز لازم ہے ، جبکہ نفسانی خواہش پوری کرنے کیلئے حلال ذریعہ موجود ہونے کے باوجود حرام راستہ تلاش کرنا یا اختیار کرنا افسوس کی بات ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح : وعن عائشة رضی اللہ عنھا قالت : قال رسول اللہ ﷺ : اذا جاوز الختان الختان وجب الغسل ، فعلته أنا ورسول اللہ ﷺ فاغتسلنا رواہ الترمذی وابن ماجه اھ (1/ 138)۔
و فی البحر الرائق : (قوله : و تواري حشفة في قبل أو دير عليهما) أي و فرض الغسل عند غيبوبة ما فوق الختان و كذلك غيبوبة مقدار الحشفة من مقطوعها في قبل امرأۃ یجامع مثلها أو دبر على الفاعل و المفعول به و إن لم ينزل و التعبير بغيبوبة الحشفة أولى من التعبير بالتقاء الحتانين لتناوله الإيلاج في الدبر اھ(1/ 61)۔
وفی رد المحتار : کسرۃ وفخذ وکذا الاستمناء بالکف وان کرہ تحریماً لحدیث (ناکح الید ملعون) ولو خاف الزنی یرجی أن لا وبال علیه اھ (2/ 399)۔