سلام میں ایک چھوٹا کارخانہ شروع کرنا چاہ رہا ہوں، جس کے لیے میں ایک ادارے سے لون لے رہا ہوں، لان کا سسٹم یہ ہے کہ میں اس ادارے سے دو کروڑ لے رہا ہوں جس میں ہر سال جتنی رقم ہو گی اس کا سات فیصد اس کو منافع دونگا اور ساتھ ساتھ ہر مہینہ دو لاکھ اس کو رقم کی اقساط بھی دیتا رہوں گا، سال میں منافع کے ساتھ اس کو قسطیں بھی دونگا ؟ اب پورا سال میں ایک مرتبہ تمام رقم کا سات فیصد دونگا اور اگلے سال قسطیں دینے کے بعد جو رقم رہ جائے گی اس کا منافع دونگا اس طرح پہلے سال اس کو دو کروڑ پر سات فیصد منافع دیا ،پھر اگلے سال اس کو ایک کڑور چھیتر لاکھ پر سات فیصد منافع دونگا اس طرح اس کو منافع بھی ملتا رہے گا اور میرا قرضہ بھی اترتا رہےگا، جس ادارے سے لے رہا ہو وہ ایک نجی ادارہ ہے اس کے بقول یہ جائز ہے اور ان کے پاس فتویٰ موجود ہے اس میں میری ہدایت کرے۔
سائل نے جو صورت ذکر کی ہے ، بظاہر تو یہ جائز معلوم نہیں ہوتی، تاہم مذکور ادارے کے پاس جو فتوی ہے ، اس کی کاپی بھیج دی جائے تو اس پر غور فکر کے بعد جب مکمل صورت واضح ہو جائے تب ہی اس کے متعلق کوئی حتمی حکم ذکر کیا جا سکے گا۔
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166) والله اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1