امید ہے اللہ کے فضل وکرم سے آپ ٹھیک ہوں گے، حضرات میرا بینک اکاؤنٹ ، پی ایل سی (P.L.C) سیوننگ اکاؤنٹ ہے، لیکن اس کا سود میں اپنے ذاتی استعمال میں نہیں لاتا، بلکہ اسے غریبوں میں تقسیم کردیتا ہوں، میرے سوالات درج ذیل ہیں، (1) کیا میری طرف سے یہ اچھا اقدام ہے کہ سود لے کر غریبوں میں تقسیم کردوں؟ (2) کیا میں اس رقم کو اپنے مقامی مدرسہ میں دے سکتا ہوں؟ (3) کیا میں اس رقم کو اپنے غریب رشتہ داروں کو دے سکتا ہوں؟
نوٹ: سائل سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کا اکاؤنٹ نیشنل بینک آف پاکستان میں ہے، اور اس نے اختیار ملنے کے باوجود اپنا اکاؤنٹ اسلامی ونڈو میں منتقل نہیں کروایا۔
سائل کے لیے غریبوں اور رشتہ داروں وغیرہ سے تعاون کی نیت سے بھی کسی سودی بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا جائز نہیں، اس لئے سائل کو چاہیے کہ اپنے اس معاملے کو فوراً ختم کر کے اللہ تعالی کے حضور توبہ واستغفار بھی کرے اور آئندہ کے لیے اپنے مذکور مقصد کے حصول کے لئے کسی سودی بینک میں رقم لگانے کے بجائے مستند مفتیان کرام کے زیر نگرانی اپنے امور انجام دینے والے کسی اسلامی بینک میں رکھے۔
کما فی فقہ البیوع: وحساب التوفیر ( الی قولہ) ویعطی البنک علی ذلک فائدۃ ربویۃ بنسبۃ ادنی من النسبۃ التی تعطی لصاحب الودیعۃ الثابتۃ التی تورع فیھا الاموال الی مدۃ معینۃ وتعطی البنوک لاصحابھا فائدۃ بنسبۃ اعلی وکل وحدۃ من الحسابین ربوی وبحث، والایداع فی ھذین الحسابین حرام شرعاً لکونہ تعاقداً بالربوا اھ (2/1063)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1