السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ ہمارے مدرسے اور مسجد میں سیکورٹی کے پیش نظر (سی سی ٹی وی) کا پور اسسٹم لگا یا کیا تھا؟ مگر کچھ عرصہ سےچوری کی واردات میں اضافہ ہوا جس کے بعد مجلس وابستگان ادارہ میں سب حضرات کی طرف سے رائے آئی کہ ایک نوٹس بھی مختلف جگہوں پر آویزاں کر دیا جائے، جس پر یہ جملہ لکھا ہوا ہو کہ کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے۔
بہر حال فیصلہ کے مطابق عمل کیا گیا جس پر ایک صاحب نے کہا کہ یہ تو آپ لوگوں کا عقیدہ خراب کر رہے ہیں، اور آپ لوگوں کا کیا اللہ پر توکل نہیں؟ اب سوال یہ ہے کہ اس جملہ سے عقیدہ خراب کرنا ظاہر ہے یا نہیں؟ اور اگر جواب ہاں میں ہے تو اس کا بہترین متبادل بھی عرض کر دیں جس سے چوری کی واردات میں کمی لاسکیں۔
واضح ہو کہ مدرسہ اور مسجد یا اس کے علاوہ دیگر مقامات پر سیکورٹی کے پیش نظر (سی سی ٹی وی) کیمرے نصب کرنا اور لوگوں کو اس سے آگاہ کرنے کے لیے یہ جملہ کیمرے کی آنکھ آپ کو دیکھ رہی ہے کسی بورڈ وغیرہ پر لکھ کر مختلف مقامات پر آویزان کرنا چوری وغیرہ دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے من جملہ اسباب میں سے ایک سبب ہے، جو توکل کے منافی نہیں ہے، اور نہ ہی اس سے لوگوں کے عقائد خراب ہونے کا اندیشہ ہے تاہم لوگوں کو جرائم سے روکنے کے لیے اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ وعظ ونصیحت سے بھی کام لینا چاہیے۔
کما فی سنن الترمذی: حدثنا عمرو بن علي، قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان، قال: حدثنا المغيرة بن أبي قرة السدوسي، قال: سمعت أنس بن مالك، يقول: قال رجل: يا رسول الله أعقلها وأتوكل، أو أطلقها وأتوكل؟ قال: اعقلها وتوكل الخ (4/249 رقم الحدیث 2517 )۔
وفی ردالمحتار: تحت (" لَرَزَقَكُمْ ") وَلَوْ تَرَكْتُمُ الْأَسْبَابَ فَإِنَّهُ يَرْزُقُ الْبُطَّالَ وَالْعُمَّالَ، (الی قولہ) فَالْحَدِيثُ لِلتَّنْبِيهِ عَلَى أَنَّ الْكَسْبَ لَيْسَ بِرَازِقٍ، بَلِ الرَّازِقُ هُوَ اللَّهُ تَعَالَى، لَا لِلْمَنْعِ عَنِ الْكَسْبِ فَإِنَّ التَّوَكُّلَ مَحَلُّهُ الْقَلْبُ فَلَا يُنَافِيهِ حَرَكَةُ الْجَوَارِحِ، (الی قولہ) قَالَ الشَّيْخُ أَبُو حَامِدٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى -: قَدْ يُظَنُّ أَنَّ مَعْنَى التَّوَكُّلِ تَرْكُ الْكَسْبِ بِالْبَدَنِ، وَتَرْكُ التَّدْبِيرِ بِالْقَلْبِ، وَالسُّقُوطُ عَلَى الْأَرْضِ كَالْخِرْقَةِ الْمُلْقَاةِ أَوْ كَلَحْمٍ عَلَى وَضَمٍ، وَهَذَا ظَنُّ الْجُهَّالِ فَإِنَّ ذَلِكَ حَرَامٌ فِي الشَّرْعِ، وَالشَّرْعُ قَدْ أَثْنَى عَلَى الْمُتَوَكِّلِ، (الی قولہ) وَقَالَ الْإِمَامُ أَبُو الْقَاسِمِ الْقُشَيْرِيُّ: اعْلَمْ أَنَّ التَّوَكُّلَ مَحَلُّهُ الْقَلْبُ، وَأَمَّا الْحَرَكَةُ بِالظَّاهِرِ فَلَا تُنَافِي التَّوَكُّلَ بِالْقَلْبِ بَعْدَ مَا يَحِقُّ الْعَبْدُ أَنَّ الرِّزْقَ مِنْ قِبَلِ اللَّهِ تَعَالَى، الخ (8/3320 رقم الحدیث5299 )۔
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1