بینک سے جو منافع ملتا ہے، اس نیت سے لے سکتے ہیں کہ کسی ضرورت مند کی مدد ہو جائے ، کیا یہ جائز ہے؟
کسی کی غربت کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ اسے ہمیشہ سود کھلایا جائے، بلکہ اپنے جائز اور حلال مال سے اسے دینا ہی اجر و ثواب کا باعث ہے ،اور اس مال میں سے دینے کا اہتمام بھی چاہیئے،ہاں اگر کسی کا پہلے سے اس طرح سودی اکاؤنٹ کھلا ہوا ہو، اور اس میں کچھ رقم سودی پڑی ہو تو یہ بلانیتِ ثواب اسے دے سکتے ہیں، مگر سودی اکاؤنٹ کو فی الفور بند کروا کر سودی معاملہ کو ختم کر نالازم ہے، جبکہ اس مقصد کیلئے سودی اکاؤنٹ کھلوانا انتہائی نامناسب اور غلط سوچ ہے ، جو دوسروں کی خیر خواہی میں اپنی عاقبت برباد کرنے کے مترادف ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1