السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی بھی ایزی پیسہ یا موبی کیش موبائل اکاؤنٹ میں 1000 روپے یا اس سے زیادہ کی رقم اگر جمع کرادی جائے تو دونوں کمپنیاں اس شرط پر اپنے کسٹمرز کو روزانہ کی بنیاد پر فری منٹس، ایس ایم ایس اور موبائیل انٹرنیٹ مفت میں فراہم کرتی ہیں کہ وہ مہینے میں کم از کم ایک بار لازمی اپنے اکاؤنٹ میں رکھے گئے پیسوں سے کسی نہ کسی طریقے سے کم از کم ایک روپے یا اس سے زیادہ کی خریداری ضرور کریں گے ؟ اگر ایک ماہ (30 دن) تک اکاؤنٹ میں رکھی گئی رقم کا استعمال نہ کیا جائے یعنی شرط کے مطابق کسی قسم کی خریداری نہ کی جائے تو دونوں کمپنیاں روزانہ کی بنیاد پر دیے جانے والے فری منٹس، ایس ایم ایس اور موبائیل انٹرنیٹ فراہم کرنا بند کر دیتی ہیں یا اکاؤنٹ میں اگر کسی دن مطلوبہ رقم (کم از کم 1000 روپے) موجود نہ ہوں جب بھی دونوں کمپنیاں فری منٹس، ایس ایم ایس اور موبائیل انٹرنیٹ فراہم نہیں کرتیں ؟ اس کے علاوہ بھی اگر ان موبائیل اکاؤنٹس کے ذریعے کسی بھی قسم کی خريداری کی جائے تو دونوں کمپنیاں خصوصی ڈسکاؤنٹ فراہم کرتی ہیں ؟ آپ کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ اب ہمارے لئے کیا حکم ہے اس بارے میں کہ کیا ہم ان اکاؤنٹس میں رقم رکھ کر ان کی دی گئی سہولیات سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں یا یہ فائدے سود کے زمرے میں آتے ہیں؟ مہربانی فرما کر مفصّل جواب عنایت فرمائیں ۔
مذکورہ تمام سہولیات چونکہ ایک خاص مقدار اور خاص مدت تک اکاؤنٹ میں رقم ( جو کہ قرض ہے) کی موجودگی اور اس کے استعمال کے ساتھ مشروط ہیں، لہذا اس پر ملنے والے فری منٹس اور دیگر مراعات سود کے زمرے میں داخل ہیں، جن کا استعمال شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
لما في القرآن الكريم: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ } [آل عمران: 130]
كما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم (2/ 855)-
و في المصنف لإبن أبي شيبه: حدثنا أبو بكر قال حدثنا وكيع قال حدثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره كل قرض جر منفعة اھ (5/ 74)-
و في الأشباه والنظائر لابن نجيم: كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن كما في الظهيرية (ص: 226)-
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه (قوله فكره للمرتهن إلخ) الذي في رهن الأشباه يكره للمرتهن الانتفاع بالرهن إلا بإذن الراهن اهـ سائحاني. (5/ 166)-
كما في فقه البيوع : (811/2) الثالث ما جرى به عمل بعض التجار انهم يعطون جوائز لعملائهم الذين اشتروا منهم كمية مخصوصة، ولو في صفقات مختلفة ، وقد تعطى هذه الجوائز بقدر الكمية لكل أحد . وقد تعطى الجوائز بالقرعة (الى قوله) فهى هبة مبتداة موعودة من البائع لتشجيع الناس على ان يشتروا البضائع منه ، وجواز أخذها مشروط بأن لا يكون البائع زاد في ثمن البضاعة من أجل هذه الجوائز، والا صار نوعا من القمار، لأن ما زاد علی الثمن إنما طولب به علی سبیل الغرر اھ (۲/ ۸۱۱)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1