السلام علیکم! جناب و محترم! مسئلہ کچھ اسطرح ہے کہ میرے بڑے بھائی کی بيوی جو میری بھا بھی لگتی ہے کچھ سال پہلے میرے بھائی نے اسے اکیلے عمرہ کے لیے بھیجا تھا اور رہائش کا بندوبست اپنے کسی دوست کے گھر میں کروایا تھا، جو دوست بھی چند مہینوں کا تھا،میری بھا بھی تیس دن قیام کرتی ہے اور واپس آجاتی ہے ، دوسری بات یہ ہے کے کچھ روز قبل میری بیوی گھریلو ناچاقی جس پر میں نے اسکو مارا بھی، وہ گھر سے چلی جاتی ہے دارالأمان اور چھ روز بعد واپس آجاتی ہے،یا ہم لے آتے ہیں، کیایہ لازم ہے کہ میری بیوی گھر سے گئی اور منہ کالا یا ذلیل کروا کر ہی آئی ہے، اور میری بھابھی جو اکیلی گھر سے جاتی ہے اور تیس دن بعد واپس آتی ہے وہ بھی کسی غیر محرم کے گھر رہائش پذیر رہی ،وہ عزت سے واپس آئی ہے ، حالانکہ شریعت دونوں پر ایک جیسی ہے۔
سائل کی بھابھی کا بغیر محرم کے عمرے کے لیے چلی جانا اور وہاں ایک مہینے تک غیر محرم افراد کے گھر رہائش پذیر رہنا اور اسی طرح سائل کی بیوی کا سائل کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل کر کچھ دونوں تک دار الامان میں رہائش پذیر رہنا جائز نہیں جس پر سائل کی بیوی اور بھا بھی دونوں کو بصدقِ دل توبہ و استغفار کرنا چاہیئے ، مگر فقط اسکی وجہ سے بغیر کسی ثبوت کے کسی کے لیے سائل کی بیوی یا اسکی بھا بھی پر بدکاری اور منہ کالا کرنے کا الزام لگانا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی صحیح المسلم : عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ، تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» اھ (2/977)۔
و فی أحکام القرآن للجصاص : وقوله تعالى اجتنبوا كثيرا من الظن إن بعض الظن إثم اقتضت الآية النهي عن بعض الظن لا عن جميعه لأن قوله كثيرا من الظن يقتضي البعض وعقبه بقوله إن بعض الظن إثم فدل على أنه لم ينه عن جميعه وقال فی آية أخرى إن الظن لا يغني من الحق شيئا وقال وظننتم ظن السوء وكنتم قوما بورا فالظن على أربعة أضرب محظور ومأمور به ومندوب إليه ومباح فإن الظن المحظور فهو سوء الظن بالله تعالى اھ 5/287)۔
و فی الرد تحت : (قوله ومع زوج أو محرم) هذا وقوله ومع عدم عدة عليها شرطان مختصان بالمرأة فلذا قال لامرأة وما قبلهما من الشروط مشترك والمحرم من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو صهرية اھ (2/464)۔