سود

ورثاء کیلئے سودی قرضہ سے خریدے ہوئے گھر میں رہائش کا حکم

فتوی نمبر :
41398
| تاریخ :
معاملات / مالی معاوضات / سود

ورثاء کیلئے سودی قرضہ سے خریدے ہوئے گھر میں رہائش کا حکم

السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سودی بینک سے سود پر قرض لے کر گھر بنائے، لیکن سود کی رقم ادا کرنے کی نوبت آنے سے پہلے ہی بینک وہ سود کی رقم کسی وجہ سے معاف کر دے تو کیا وہ گھر اس شخص کے لئے اور اس کے ورثاء کے لئے حلال ہو گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جی ہاں !مذ کور شخص اور اس کے ورثاء کے لئے اس گھر میں رہائش اختیار کرنا تو شرعاً درست ہے، البتہ سودی معاملہ پر رضامندی کا اظہار کر کے اسے اختیار کرنا چونکہ ناجائز اور حرام کام ہے، لہذا ایسے شخص کو اس عمل پر تو بہ واستغفار لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

لما في القرآن الكريم: {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة: 275] ۔
وقال اللہ تعالیٰ ایضا: {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ } [البقرة: 278] ۔
و في كما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم (2/ 855)۔
و في فقه البيوع : أما من يستقرض بالربوا . فانه بالرغم من اقترانه اثما كبيرا في عنقه، يملك ما استقرضه، وهو مضمون عليه، وذلك لان القرض مما لا يبطل بالشروط الفاسدة، وانما يبطل الشرط. فما يشتريه بما استقرضه ليس حراما، وعلى هذا الواهدى الى رجل شيئا، فانه يحل للأخذ، وكذلك يجوز البيع اليه والشراء منه. (۲/1060) مط: معارف القرآن)۔
و في اعلاء السنن: وقال الحنفية : يبطل الشرط لكونه منافيا للعقد، ويبقى القرض صحيحا ، وقولهم ببطلان الشرط لكونه منافيا للعقد فيه تصريح بان القرض اذا كان مشروطا بالمنفعة يلزم منه انقلابه بيعا . ولذا ابطلوا الشرط حفظا للعقد عن الانقلاب والا لم يكن لابطاله معنى ومرادهم يكون القرض صحيحا، والشرط باطلا ان المستقرض اذا قبض الدراهم التي استقرضها بالشرط يصير دينا عليه، ولا تكون امانة غير مضمونة، وأما ان الاقراض والاستقراض بالشرط جائز فكلا ، فقد صرح في "الدر " عن "الخلاصة " القرض بالشرط حرام. والشرط لغو ، وفيه ايضا واعلم ان المقبوض بقرض فاسد كمقبوض ببيع فاسد سواء اھ(۱۴/548) مط: امداديه) ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41398کی تصدیق کریں
0     550
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات