ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے ہونے کی وجہ سے اس پر دن میں سات روپے نقد دیتے ہیں،آیا یہ جائز ہے کہ نہیں؟
واضح ہوکہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں رکھے جانے والے پیسوں کی حیثیت شرعاً قرض کی ہے اور قرض پر ہر قسم کا معروف یا مشروط نفع حاصل کرنا شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے،لہذا ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے سات روپے ملنا اگر اکاؤنٹ میں مخصوص مقدار میں رقم رکھنے پر مشروط ہو تو اس کا وصول کرنا شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی شرح النووي على مسلم: وفيها أنه يستحب لمن عليه دين من قرض وغيره أن يرد أجود من الذي عليه وهذا من السنة ومكارم الأخلاق وليس هو من قرض جر منفعة فإنه منهي عنه لأن المنهي عنه ما كان مشروطا في عقد القرض (11/37 کتاب البیوع ط: بیروت)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: کل قرض جرّ منفعۃ فھو وجہ من وجوہ الربا،فتکون کل زیادۃ علی القرض رباً اھ(1/575 ط: سعید)۔
وفی ردالمحتار تحت (قوله كل قرض جر نفعا حرام) ثم رأيت في جواهر الفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به اهـ(5/ 166)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1