السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
میرا نام سید۔۔۔ ہے اور میری عمر تیس سال ہے میں ایک سیول انجینئر ہوں اور ایک کمپنی میں جاب کر رہا ہوں لیکن میں اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں جس کے لیے مجھے پیسوں کی ضرورت ہے اور یہ پیسے میں وہ پاکستان پرائم منسٹر لون سکیم سے حاصل کرنا چاہتا ہوں اور یہ پروگرام پاکستان حکومت کی طرف سے ہے اور جتنے پیسے بھی لیے جائیں گے سالانہ 3 پر سنٹ اس پر انٹرسٹ حکومت لے گی۔
آپ جناب سے یہ معلوم کرنا تھا کیا اس پرو گرام کے تحت لی گئی ر قم سود کے زمرے میں آتی ہے حالانکہ 3 پر سنٹ انٹرسٹ حکومت واپس لے گی۔ وہ قومی خزانے میں جمع ہو گا اور یہ پیسہ کسی فرد واحد کا نہیں ہو گا بلکہ پاکستان کے قومی خزانے میں جمع ہو گا ۔آپ جناب سے راہ نمائی چاہیئے کہ کیا میں اس اسکیم کے تحت لون لے کر کاروبار شروع کر سکتا ہوں؟ جزاک اللہ
واضح ہو کہ جس طرح کسی فرد کے ساتھ سودی لین دین جائز نہیں، اسی طرح کسی ادارے کے ساتھ بھی سودی لین دین جائز نہیں، لہذا سائل کے لئے مذکور اسکیم کے تحت حکومت پاکستان سے تین فیصد سود پر کاروبار کے لئے رقم وصول کرنا شرعا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما قال الله تعالى : {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ } [البقرة: 278، 279] ۔
وفی مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الربا سبعون جزءا أيسرها أن الرجل أمه» اھ (2/ 859) والله اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1