السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس سال 2020 نومبر کے مہینہ سے شروع ہونے والی حکومتی "اپنا گھر" اسکیم کے تحت قسطوں پر مکان یا پلاٹ حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
ہماری معلومات کے مطابق مذکور حکومتی" اپنا گھر اسکیم " کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں کو پلاٹ یا گھر کی خریداری کے لئے حکومت کی طرف سے سودی قرضہ فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ سودی قرض لینا ، دینا قرآن وسنت کی رو سے قطعاً حرام ہے، لہذا مذکور اسکیم کے تحت قسطوں پر مکان یا پلاٹ حاصل شرعاً جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے، البتہ اگر حکومت لوگوں کو مذکور اسکیم دینے کے لئے کسی اسلامی بینک سے کنٹریکٹ کرے اور وہ اسلامی بینک مستند علماء کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی زیر نگرانی بیع مرابحہ، شرکتِ متناقصہ وغیرہ کسی شرعی اصول کے تحت لوگوں کو مذکور اسکیم دیں، تو ایسی صورت میں متعلقہ اسلامی بینک سے اسکیم کے تحت گھر یا پلاٹ لینے کی گنجائش ہوگی۔
قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ( سورۃ البقرۃ آیة278/279)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1