السلام علیکم ! مفتیان کرام میں مولانا مسعود ہوں ،یو گنڈا سے، صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ خلع کتنی دفع لی جا سکتی ہے۔
میاں بیوی کے درمیان ان کی باہمی رضا مندی سے عقد خلع اس طریقہ سے طے ہو جائے کہ بیوی حق مہر کی معافی کے عوض اس کو طلاق یا خلع پر رضامند کرے، اور شوہر اُسے خلع دینا قبول کر لے، تو اس سے فقط ایک طلاق بائن ہی واقع ہوتی ہے،اور علیحدگی کیلئے ایک بار خلع کافی ہے تاہم اس کے بعد اگر وہ دوباره ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہیں، تو دوران عدت اور اگر عدت ختم ہو چکی ہو ،تو بھی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے،اور اگر اس عقد نکاح کے بعد پھر خلع کرنا چاہیں تو اس کا بھی یہی طریقہ ہے جو اوپر مذکور ہوا اور اس طرح تین مرتبہ کرنے سے تین طلاق حرمت مغلظہ کے ساتھ واقع ہو جائیں گی اور اس تیسری مرتبہ کے بعد بغیر حلالہ شرعیہ کے ان دونوں کا دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا ۔
کما في الدر المختار: (و) حكمه ان ( الواقع به ) ولو بلا مال (و بالطلاق) الصر يح ( على مال طلاق بائن ( ٣ / ٤٤٤) ۔
وفي رد المحتار تحت(قوله لو قضى بكونه فسخا ) اى كما هو قول الحنابلة انه لا يقع به طلاق بل هو فسخ لا ينقص العدد بشرط عدم نية الطلاق اھ (3/ 444)