میں اپنا گھر بیچنا چاہتا ہوں، میں گھر کو کسی اور گھر یا پلاٹ کے ساتھ تبدیل کرنا چاہتا ہوں، تو کیا ایسی صورت حال میں اس کے لیے کیا شرائط ہیں، کیا یہ جنس واحد میں سے ہے یا مختلف ، تو کیا یہ سود میں تو نہیں آئیگا؟
واضح ہو کہ اشیاء ربویہ، کیلی (یعنی کسی برتن میں تول کر دی جانی والی چیزیں) یا موزونی (یعنی وزن کر کے دی جانے والی چیزیں) کا باہم تبادلہ کے وقت اس میں برابری کا لحاظ رکھنا لازم ہے ، ان میں کمی پیشی کی شرعا اجازت نہیں، جبکہ اس کے علاوہ جو اشیاء ہیں ان کے باہم تبادلہ کے وقت ان میں کمی پیشی کی اجازت ہوتی ہے ، لہذا گھر یاز مین چونکہ کیلی یا موزونی اشیاء میں سے نہیں، اس لئے سائل کے لیے اپنے گھر کو کسی اور گھر یا پلاٹ کے عوض فروخت کرنا بلاشبہ جائز ہے۔
ففي سنن الترمذي: عن عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الذهب بالذهب مثلا بمثل، والفضة بالفضة مثلا بمثل، والتمر بالتمر مثلا بمثل، والبر بالبر مثلا بمثل، والملح بالملح مثلا بمثل، والشعير بالشعير مثلا بمثل، فمن زاد أو ازداد فقد أربى، بيعوا الذهب بالفضة كيف شئتم يدا بيد، وبيعوا البر بالتمر كيف شئتم يدا بيد، وبيعوا الشعير بالتمر كيف شئتم يدا بيد» اھ (3/ 533) والله اعلم بالصواب
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1