..کیا مکہ کا رہائشی مدینہ، طائف یا مکہ سے باہر کہیں بھی جائے تو واپسی پر عمرہ کرنا ضروری ہوگا؟ کرونا کی وجہ سے ہر کسی کو عمرہ کی اجازت نہیں ہوتی،ان دنوں عمرہ کے لیے تصریح لینی پڑتی ہے، تو ہم مدینہ گئے تھے واپسی پرعمرہ نہیں کیا،تو اب کیا کوئی دم ادا کرنا ہو گا ؟
واضح ہو کہ مکہ کا رہائشی ، جب میقات سے باہر مدینہ منورہ یا کہیں بھی چلا جائے تو واپسی پر جب وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو گا، تو عند الاحناف اس کے ذمے عمرہ کرنا لازم ہو گا، البتہ اگر موجودہ صورتحال میں کرونا وائرس کیوجہ سے ہر شخص کو عمرہ کرنے کی اجازت نہ ہو تو باہر سے آنے والوں کو چاہیئے کہ وہ مکہ مکرمہ کی نیت کر کے میقات میں داخل نہ ہوں، بلکہ انہیں چاہیئے کہ میقات کے اندر اور حدود حرم سے باہر کسی مقام جانے کی نیت کر کے آئیں، چنانچہ اس کے بعد اگر وہ مکہ مکرمہ عمرے کی نیت کے بغیر داخل ہوں گےتو ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہو گا، اور اسکی وجہ سے ان پر کوئی دم بھی لازم نہ ہو گا، لیکن اگر کوئی مکہ مکرمہ کی نیت سے ہی میقات میں بغیر احرام کے داخل ہو تو ایسی صورت میں اس کے ذمہ دم لازم ہو گا۔