السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت رکھنے کے پیچھے کیا راز ہے ؟ اور والدہ کو تین / 3 گنا زیادہ اہمیت دینے کا کیوں حکم دیا ہے اولاد کو؟ براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔
ماں کے قدموں تلے جنت ہونے کا تذکرہ احادیث مبارکہ میں بیان ہوا ہے ، اسی طرح والدہ کی خدمت اور اس کے ساتھ حسن سلوک کا تذکرہ بنسبت والد کے تین گنا زیادہ بیان کیا گیا ہے ، محدثین کرام رحمہم اللہ نے اس کی مختلف توجیہات بیان فرمائی ہیں، ان میں سے ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ والدہ اپنے بچے کی ابتداء نشو نما (حمل ) سے لے کر دودھ چھڑانے تک کئی طرح کی مشقتوں کا سامنا کرتی ہے (مثلا کئی ماہ تک پیٹ میں اٹھانا، ولادت کی مشقت، دودھ پلانے کی مشقت وغیرہ وغیرہ) جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے والدہ کے حقوق کو والد کے حقوق سے زیادہ ٹھہرایا، تاہم والدین کی خدمت و احترام میں کوئی کسر نہیں چھوڑ نا چاہئے۔
قال اللہ تعالی: وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَى وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ (14) ۔
و فی صحيح البخاري : عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، من أحق الناس بحسن صحابتي؟ قال: «أمك» قال: ثم من؟ قال: «ثم أمك» قال: ثم من؟ قال: «ثم أمك» قال: ثم من؟ قال: «ثم أبوك»(8/ 2)۔
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : لو لم يقدر إلا على نفقة أحد والديه فالأم أحق
(قوله فالأم أحق) ؛ لأنها لا تقدر على الكسب. وقال بعضهم: الأب أحق؛ لأنه هو الذي يجب عليه نفقة الابن في صغره دون الأم، وقيل يقسمها بينهما جوهرة. قلت: ويؤيد الأول ما رواه أحمد وأبو داود والترمذي وحسنه «عن معاوية القشيري قلت يا رسول الله من أبر؟ قال أمك، قلت: ثم من؟ قال أمك. قلت، ثم من؟ قال: أباك، ثم الأقرب فالأقرب»(3/ 616)۔