اگر باپ نے بینک سے سود لیا ہو ،کاروبار کے لیے، اور اس سود کو وہ کاروبار میں لگائے، تو کیا اس کے بچے جو بالغ ہیں ،یونیورسٹی پڑھ رہے ہیں، اور اسی کاروبار میں سے ان کے اخراجات وغیرہ آتے ہیں، تو کیا بچے بھی گناہ گار ہونگے اور سود خود ہونگے؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر سائل کے والد نے کسی بینک سے سود پر قرض لیا ہو تو اس کے لیے ایسا کرنا اگر چہ جائز نہیں، جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا، لیکن اگر اس کا بنیادی کاروبار حلال ہو، اور وہ اس کی آمدنی سے بچوں کے اخراجات پورے کر رہا ہو، تو بچے گناہ گار نہ ہونگے ، اور نہ ہی وہ سود خور شمار ہونگے، تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو دوبارہ تفصیل کے ساتھ لکھ کر ارسال کردے۔
کما فی الفقہ البیوع: اما من یستقرض بالربوٰ فانہ بالرغم من اقترافہ اثماً کبیراً فی عنقہ، یملک ما استتقرضہ وھو مضمون علیہ و ذلک لان القرض مما لایبطل بشرط الفاسد وانما یبطل الشرط فما یشترط مما استقرضہ لیس حرام، ویلی ھذا لو اھدی الی رجل شیئاً، فانہ یحل لہ الاخذ، وکذا یجوز البیع الیہ والشراء منہ اھ (2/1060)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1