السلام علیکم
میں 20 سال کی ہوں، 21 مئی کو میرے والد کا انتقال ہوا، میں جارجیا پڑھائی کے لئے جانے والی تھی ، میرے والد نے اپنے انتقال سے تین ہفتے پہلے تک اس پورے سلسلے میں ویزے سے لے کر میری خرید کی اشیاء میں میری مدد کی، بہر حال کافي عرصہ انتظار کے بعد ، آج میر اویزا آگیا، میرے والد کو پتہ تھا کہ میرے ویزے میں وقت لگے گا (کورونا کی وجہ سے )اس کے باوجود بھی انہوں نے ہر وہ چیز کی جو اس کے لئے کرنا ضروری تھی، انہوں نے اپنے آخری فون کال جب وہ ہسپتال میں تھے، میں نے جب پوچھا جب ویزا آجائے تو کیا کرنا چاہئیے؟ انہوں نے کہا کہ نہ جانا اور اپنے ملک میں اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنا، جس پر میں نے کہا کہ مزاح نہ کریں مجھے صحیح بتائیں، انہوں نے کہا کہ جب ویزا آئے گا تب فیصلہ کرینگے، اس فون کے لگ بھگ 6 گھنٹہ بعد ان کا انتقال ہو ا۔میر اسوال یہ ہے کہ کیا میرے لئے جانا جائز ہے یا جو میرے والد نے کہا وہ ان کے آخری الفاظ شمار ہونگے؟ اگر میں جاتی ہوں تو اس سے ان پر آخرت میں اثر پڑے گا کیا ؟ اس میں کوئی وجہ بنتی ہے کہ مجھے رک جانا چاہیے؟ ان کے اس کہنے میں کوئی بڑی وجہ ہو سکتی ہے یا شاید وہ مزاح کر رہے تھے جیسے وہ عموماً کرتے ہیں؟ میرے پاس اپنے ملک میں میڈیسن کے حوالے سے کوئی جاب کی امید نہیں ہے اور میں اپنا پہلا سمسٹر مکمل کر چکی ہوں، میری اور میرے والد کی خواہش تھی کہ وہ مجھے ڈاکٹر بنے دیکھے اور یہ بھی کہ میں اس میں بہت شوق رکھتی تھی اور انہوں نے اس کو ممکن بنانے کے لئے ہر وہ کوشش کی جو ان کی استطاعت میں تھی، البتہ ان کی اس فون کال کی وجہ سے مجھے کچھ بے چینی سی ہے، میری والدہ جو ابھی عدت میں ہے، ان کے لئے بھی یہ فیصلہ مشکل ہو رہا ہے کہ مجھے بھیجے کہ نہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ اگر ہم اس معاملے میں فتوی لینگے تو ہماری کچھ راہ نمائی ہو جائے گی، مجھے کیا کرنا چاہئیے؟ گزارش ہے کہ آپ میری مدد کریں، میر اویزا آچکا ہے میرے پاس وقت نہیں ہے۔ جزاک اللہ
واضح ہو کہ عورت کے لئے اپنے محرم کے بغیر تین دن یا اس سے زیادہ ( اٹھہتر کلو میٹر ) اکیلے سفر کر ناشر عاً ممنوع ہے، لہذا سائلہ کے لئے بنا محرم جار جیا جانا شرعاً درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ،تاہم اگر اس سفر میں محرم بھی ساتھ ہو اور والدہ اپنی خوشی سے اس کی اجازت دے تو ایسی صورت میں سائلہ بیرون ملک پڑھائی کے سلسلے میں شرعی پردہ کا اہتمام کرتے ہوئے جا سکتی ہے ۔
ففي سنن أبي داود: حدثنا عثمان بن أبي شيبة، وهناد، أن أبا معاوية، ووكيعا، حدثاهم عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر سفرا فوق ثلاثة أيام فصاعدا، إلا ومعها أبوها أو أخوها أو زوجها أو ابنها أو ذو محرم منها» اھ (2/ 140)
و في الفتاوى الهندية: ولا تسافر المرأة بغير محرم ثلاثة أيام فما فوقها واختلفت الروايات فيما دون ذلك قال أبو يوسف رحمه الله تعالى أكره لها أن تسافر يوما بغير محرم وهكذا روي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى وقال الفقيه أبو جعفر رحمه الله تعالى واتفقت الروايات في الثلاث أما ما دون الثلاث قال أبو جعفر رحمه الله تعالى هو أهون من ذلك كذا في المحيط اھ (5/ 366)۔