کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ میں کہ مختلف کمپنیاں نیٹ کے ذریعے کاروبار میں پیسہ لگاتے ہیں اور پر سنٹیج ملتا ہے ان کو، لیکن نہ چیز دیکھی، نہ پتہ ہے کہ کہاں ہے، کمپنیوں میں” تھری جینس ،بیفوریو و“غیرہ اور پیسہ اس کے پیسوں پر پرسنٹیج دیتے ہیں ،نفع کا پتہ نہیں ، اور وہ بولتے ہیں کہ ہم کار و بار کرتے ہیں، سونے کا ،پینٹ شرٹ اور پیپر وغیرہ کا، پتہ نہیں ہے کہاں ہیں، ان کے بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
ہماری معلومات کے مطابق (B4u) کمپنی بطور انویسمنٹ ایک غیر رجسٹر اور غیر لائسنس یافتہ کمپنی ہے ، اور اس کے کاروباری طریقہ کار میں متعدد شرعی و قانونی قباحتیں ہیں، اس لئے اس کمپنی میں اور اس جیسی دیگر ان تمام آن لائن کمپنیوں میں جہاں چیز پر قبضہ کیے بغیر آگے فروخت کیا جاتا ہو، ایسی کمپنیوں میں پیسے انویسٹ کرنا اور اس پر منافع لیناشر عاًدرست نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے۔
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 1شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0