سود

سود پر مبنی نصاب تیار کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
47687
| تاریخ :
معاملات / مالی معاوضات / سود

سود پر مبنی نصاب تیار کرنے کا حکم

السلام علیکم ایک امریکی غیر مسلم تعلیمی ادارے کیلئے سود پر مبنی نصاب بنانے کا کام مجھے سونپا گیا ہے، اور یہ غیر مسلم کو ہی پڑھایا جائے گا، کیا میں یہ لکھنے سے سود کی کمائی کا سہولت کار تو نہیں بن رہا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل اگر مذکور ادارے کیلئے فقط تعلیمی نصاب مرتب کرے اور اس میں حساب وکتاب کے مضامین بھی شامل ہوں تو ادارے کے مطالبہ پر فقط نصاب مرتب کرنے کی وجہ سے سائل سودی کمائی کا سہولت کار شمار نہ ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکاۃ المصابیح: کما فی مرقاة المفاتیح: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» رَوَاهُ مُسلم (2/855)
وفی فتح القدیر: (قوله ولا بين المسلم والحربي في دار الحرب خلافا لأبي يوسف والشافعي) ومالك وأحمد، وعلى هذا الخلاف الربا بين المسلم الأصلي والمسلم الذي أسلم في دار الحرب ولم يهاجر إلينا؛ فلو باع مسلم دخل إليهم مستأمنا درهما بدرهمين حل، وكذا إذا باع منهم ميتة أو خنزيرا أو قامرهم وأخذ المال يحل، كل ذلك عند أبي حنيفة ومحمد خلافا لأبي يوسف ومن ذكرنا، (لهم) إطلاق النصوص فإنها لم تقيد المنع بمكان دون مكان، والقياس على المستأمن منهم في دارنا، فإن الربا يجري بين المسلم وبينه فكذا الداخل منا إليهم بأمان. ولأبي حنيفة ومحمد ما روي أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب» وهذا الحديث غريب، ونقل ما روى مكحول عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال ذلك.قال الشافعي: قال أبو يوسف: إنما قال أبو حنيفة هذا لأن بعض المشيخة حدثنا عن مكحول عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «لا ربا بين أهل الحرب» أظنه قال وأهل الإسلام قال الشافعي: وهذا الحديث ليس بثابت ولا حجة فيه اھ(7/38)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47687کی تصدیق کریں
0     513
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات