السلام علیکم !
میری شادی کو چھ سال ہو گئے ہیں، میں شادی کے بعد پانچ مہینے اپنی شوہر کے ساتھ رہی , پھر اپنی ماں کے گھر ناراض ہو کر آگئی، پھر چار سال کے بعد میں نے خلع لی ، اب دو سال ہو گئے میری خلع کو، پر میرا شوہر کہہ رہا ہے کہ میں نے تمہیں نہیں چھوڑا اور نہ کبھی چھوڑو ں گا، مجھے عدالت کی طرف سے خلع مل گئی، پر میرا شوہر کہتا ہے میں نے نہیں خلع دی، اب میں بھی اسکے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جسکے درست ہونے کے لئے فریقین (میاں بیوی ) کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو کہ عموماً یکطرفہ عدالتی خلع میں مفقود ہوتی ہے ، لہذا اگر سائلہ کے شوہر یا اسکی طرف سے مقرر کردہ وکیل نے خلع کی ڈگری پردستخط نہ کیے ہوں تو یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود شرعاً سائلہ کا نکاح بدستور قائم ہے ،اور اس عدالتی خلع کی بنیاد پر سائلہ کا دوسری جگہ نکاح کرنا بھی درست نہیں ، اب اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو بغیر تجدیدِ نکاح بھی ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔
كما في الجوهرة النيرة :(قوله ولزمها المال) : لأنه إيجاب وقبول يقع به الفرقة من قبل الزوج ويستحق العوض منها وقد وجدت الفرقة من جهته فلزمها المال ولا يصح الخلع والطلاق على مال إلا بالقبول في المجلس فإن قامت من المجلس قبل القبول أو أخذت في عمل آخر يدل على الإعراض لا يصح الخلع ويعتبر فيه مجلسها لا مجلسه حتى لو ذهب من المجلس ثم قبلت في مجلسها ذلك صح قبولها ووقع الطلاق ولزمها المال اھ (592)۔
وفي المحيط البرهاني :ومن المرأة تعتبر بالإيجاب والقبول كما في باب البيع حتى إنه إذا كانت البداية من جانب الزوج، فقامت عن المجلس قبل القبول يبطل الإيجاب، وإن كانت البداية من جانب المرأة بأن قالت له اخلعني على كذا، صح رجوعها قبل قبوله ويبطل بقيامها عن المجلس وبقيامه اھ (335/3)۔