السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! جناب میں بینک سے قرض لینا چا رہا ہوں، 60000 سعودی ریال جس پر بینک نے 65000 واپس کرنے کا کہا ہے، میرے ان سے معلوم کرنے پر کہ یہ جو 5000 اضافی لے رہا ہے، تو یہ سود ہے؟ جس پر ان کا جواب تھا کہ سود بہت زیادہ ہوتا ہے، بینک الراخی شریعت کے مطابق کام کرتا ہے، جس میں سودی نظام نہیں، میرے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بینک کے تین سال کے سروس چارجز ہے جو آپ کو دینے ہونگے، یہاں دو مفتی صاحب سے معلوم کیا توایک مفتی صاحب نے کہا کہ قرض لے لینا، جب کہ دوسرے مفتی صاحب نے اپنے رائےسے گریز کیا۔
واضح ہو کہ مذکور بینک کے معاملات کا ہمیں مکمل علم نہیں، اس لئے اس کے تمام معاملات کے متعلق کوئی حتمی حکم تو نہیں لگایا جاسکتا، تاہم کسی بھی معاملہ میں سروس چار جز حقیقی اخراجات کے بقدر ایک دفعہ ہی وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ اخراجات کے لئے عملاایسا کوئی طویل پروسس اور کام کی ضرورت نہیں پڑتی، جس پر اس قدر بھاری مقدار میں اتنی رقم چارج کی جائے، بلکہ یہ قرض پر سود لینے کا ایک ذریعہ ہے، اور قرض پر کسی نام سے اضافی رقم وصول کرنا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، اس لئے سائل کا مذکور طریقہ کار کے مطابق بینک سے قرض لینا شرعاً جائز نہیں اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الصحیح للمسلم: عن جابر رضی اللہ عنہ قال لعن رسول اللہ ﷺ اکل الربوا، وموکلہ، وشاھدیہ، وقال ھم سواء(2/28)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1