کیا عورت عمرہ کی ادائیگی کے بعد اپنے بال خود کاٹ سکتی ہے ؟ میں نے مناسک کی ادائیگی کے بعد بھول کر بے دھیانی میں اپنے بال کاٹنے سے پہلے تین عورتوں کے بال کاٹے ایک ہی وقت میں ۔تو کیا دم لازم آئے گا ؟ اگر دم دینا ہو تو کیا تین دفعہ دینا ہوگا یا ایک ہی دفعہ ؟ کیا احرام کی حالت میں قصداً یا بھول کر الائچی یا کوئی اور خوشبو دار چیز کھانے سے بھی دم لازم ہو جاتا ہے ؟ کیا وضو یاغسل کے بعد تولیہ سے چہرہ خشک کرنے سے بھی دم واجب ہو جاتا ہے؟
(2-1) حج و عمرہ کے تمام ارکان وافعال کی ادائیگی کے بعد اگر صرف بال کا ٹنا باقی ہو ،تو عورت اپنے بال خود کاٹ سکتی ہے اور اسی طرح دوسری عورتوں کے جن کے صرف بال کا ٹنا باقی ہو، ان کے بال بھی کاٹ سکتی ہے، لہذا سائلہ نے اگر عمرہ یا مناسکِ حج کی ادائیگی کے بعد ایسی تین عورتوں کے بال کاٹے ہوں جو باقی تمام ارکان ادا کر چکی ہوں، تو ایسی صورت میں سائلہ پر کوئی دم وغیر ہ لازم نہیں ہوا ۔
(3)خوشبو دار چیز (الا ئچی وغیرہ) اگر کھانے میں ملاکر پکائی نہ ہو،تو احرام کی حالت میں اس کے کھانے سے اجتناب کرنا چاہیئے ، تاہم اگر کسی نے قصداً یا بھول کر خالص خوشبودار چیز زیادہ مقدار میں کھالی ہو ، یا تھوڑی تھوڑی مقدار میں زیادہ دفعہ کھالی ،تو اس کے ذمہ دم لازم ہو گا،ور نہ صدقہ فطر کی مقدار کے بقدر صدقہ دینا لازم ہو گا۔
(4) خواتین اگر غسل یا وضو کے بعد تولیہ سے چہرہ و خشک کریں تو اس کی وجہ سے ان پر کوئی دم لازم نہ ہوگا۔
کما فی غنية الناسك: ولو حلق راسه او راس غيره من خلال او محرم حار له الخلق لم يلزمهما شيئ. اھـ (174)
وفی الهندية : ولو كان الطيب في طعام طبخ وتغير فلا شيء على المحرم في أكله سواء كان توجد رائحته أو لا، كذا في البدائع وإن خلطه بما يؤكل بلا طبخ فإن كان معلوما فلا شيء عليه غير أنه إن وجدت معه الرائحة كره. وإن كان غاليا وجب الجزاء ولو خلطه بما يشرب فإن كان غالبا قدم، وإلا فصدقة إلا أن يشرب مرارا فيجب دم هكذا في النهر الفائق وإن أكل عين الطيب غير مخلوط بالطعام فعليه الدم إذا كان كثيرا، كذا في البدائع ام (241/1)
وفی غينة الناسك ففي النخبة وله أكل طعام فيه طيب أن مسته النار وتغير (الی قوله )وفي شرح الطحاوى : ولو حمل الطيب في الطعام وطبخه فلا باس للمحرم أن يأكله لانه خرج من حكم الطيب ، وصار طعاماً وكذلك كل ما غيرته النار من الطيب فلا بأس باكله ولو كان ربح الطيب يوجد منه وان لم تغيره النار بكره اكله اذا كان يوجد منه رائحة الطيب وان اكل فلا شيئ عليه اهـ ( 93)
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : فيجب على نائم غطى رأسه (إن طيب عضوا) كاملا ولو قمه بأكل طيب كثير قوله باكل طيب) أي خالص بلا خلط وبلا طبيخ وإلا فسيأتي حكمه قوله كثير) اھ(2/ 544)۔