کیا فرماتے میں مفتیانِ کرام کہ اس سال سعودی حکومت کی جانب سے حجاج کرام کے لیے یہ ہدایت ہے کہ مطاف (جوخانہ کعبہ کے قریب ہے )میں صرف وہ لوگ طواف کر سکیں گے جو حالت احرام میں ہوں اور جو محرم نہ ہو وہ دوسری منزل پر اپنے طواف کے چکر پورے کریں گے، اگر کوئی شخص اپنی کمزوری، بڑھا پے ، تھکاوٹ یا اس وجہ سے کہ خانہ کعبہ کا قُرب حاصل ہو محرم نہ ہو نے کے باوجود احرام کی چادریں باندھ کر خانہ کعبہ والی منزل کے مطاف میں طواف کرنا چاہے، کیونکہ نیچے والی منزل میں طواف کے چکروں کا فاصلہ بنسبت اوپر والی منزل کے بہت کم ہوتا ہے اور آسانی سے اور کم وقت میں طواف پورا کیا جاسکتا ہے تو شریعت میں اس شخص کے اس عمل کا کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ سعودی حکومت کی جانب سے معتمرین و حجاج کرام کے لیے جو اصول وضوابط بنائے گئے ہیں ، وہ انہی کی سہولت و آسانی کیلیے بنائے گئے ہیں، تا کہ پہلے مطاف میں بھیڑ اور ازدحام کی وجہ سے ناخوشگوار واقعات رُونما ہونے سے بچا جا سکے، اسلیے ان اصولوں اور قوانین کی پاسداری کرنا ہر طواف کرنے والے شخص کی ذمہ داری اور اخلاقی فریضہ ہے، لہذا جو شخص عمرہ کا احرام باندھے بغیر محض خانہ کعبہ کی نچلی منزل میں طواف کرنے کی خاطر ظاہری طور پر احرام کی دو چادریں باندھ لے، لیکن حقیقتاًمحرم نہ ہو تواس کایہ فعل نامناسب اور مذموم ہے، اسلیے اُسے ایسا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔تاہم سعودی حکومت کی طرف سے مطاف میں معذورین کی آسانی کے لیے بہت ساری سہولیات (مشینی ویل چیئرزوغیرہ) میسر ہوتی ہیں، لہذا معذور افراد کو چاہیئے کہ مذکور طریقہ اختیار کر کے نچلی منزل میں طواف کرنے اور حکومتی قوانین توڑنے کے بجائے ان سہولیات کو کام میں لاتے ہوئے اوپر والی منزل میں طواف کریں، تاکہ قوانین کی پاسداری کے ساتھ ساتھ اسکی وجہ سے دوسرے لوگوں کو اذیت و تکلیف بھی نہ ہو۔
کما فی الصحیح المسلم : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا» اھ 1/99)۔
وفى المرقاة شرح المشكوٰة : أنَّ رسول الله الله مرَّ على صبرة طعام (الى قوله) من غش فليس منا اهـ ( ج 6 ص : 84)۔
وفی ارشاد السارى شرح الصحيح البخارى : شرائط صحة الاحرام( الى قوله) النية والذكر والاولى أن يقول والتلبية أو ما يقوم مقامها من الذكر (الى قوله حتى لو نوى ولم يلب لا يصير محرماً اهـ ( ج : 1 ص : 125) ۔