مفتی صاحب! ایک شخص بہت پریشان ہے،وہ تجدید ایمان کرنا چاہتا تھا، لیکن اس کے ساتھ مختلف واقعات پیش آئے،جب کلمہ پڑھتا تو دل میں خیال آتا کلمہ صحیح مخرج کے ساتھ نہیں پڑھا دوبارہ پڑھو ۔جب مشکل سے صحیح طرح پڑھ لیتا تو دل میں خیال آتا کہ دوبارہ پڑھو اور ساتھ ساتھ دل میں عقیدہ رکھو کہ اللہ ایک ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔جب یوں کرتا تو ایک اور خیال آتا کہ یوں بھی کرلو ،پھر یوں بھی کرلو،یوں خیالات بڑھتے گئے،آخر وہ شخص بے چین ہوگیا اور اس شخص نے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی نہیں سوچوں گااور وہ شخص بالکل خاموش ہوگیا اور صرف کلمہ پڑھ لیا ۔
اب وہ شخص پریشان ہے کیوں کہ اس کے دل میں خیال آرہا ہے کہ تم نے کوئی عقیدہ رکھے بغیر کلمہ پڑھ لیا ہے،کیا ایسے شخص کا تجدید ایمان ہوجاتا ہے؟
واضح ہو کہ ایمان کی بقاء اور تجدید کے لیے کسی بھی مسلمان میں اللہ رب العزت کی وحدانیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق اور یقین کا ہوناضروری ہے، اور یہ ہرمسلمان کے دل میں موجود ہوتاہے۔ محض وہم اور وسوسے کی بیماری کی وجہ سے ایمان کی صحت اور تصدیق متاثرنہیں ہوتی، ا س لیے سائل کوچاہیے کہ ان خیالات اور وساوس کی وجہ سے پریشان ہونے کے بجائے جب بھی اس طرح کا خیال آئے تو "لاحول ولاقوۃ" پڑھ کر ان خیالات کوختم کرنے کی کوشش کرے اور اس کی طرف مزیددہان اور توجہ نہ دے۔
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1