سائل نے کیو ٹی وی پر مذہبی سوال جواب کے پرو گرام میں خود سُنا ہے ,مفتی صاحب نے فرمایا کہ بنک میں اپنی جمع شدہ ر قم کے عوض بنک سے منافع لینا جائز ہے , مفتی صاحب مذکور نے دلیل یہ دی کہ اگر آپ اس منافع پر تحفہ کی نیت کرلے تو وہ حلال ہے اور سود کے زمرے میں نہیں آئے گا، کیونکہ جس طرح آپ کا غیر مسلم یا کافر سے تحفہ لینا جائز ہے اسی طرح بنک سے منافع لینا بھی جائز ہے ؟ براہِ کرم اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیں جزاک اللہ
واضح ہو کہ عام بنکوں سے منافع کی رقم وصول کرنا خواہ کسی بھی نام سے وصول کی جائے شرعاً سود ہے، جس کا استعمال مسلمان کے لئے جائز نہیں، اس لئے ایسی رقم کو اپنے استعمال میں لانے سے احتراز بھی واجب ہے۔
جبکہ مفتی صاحب موصوف کا مذکور طرزِ استدلال قیاس مع الفارق ہونے کی وجہ سے درست نہیں ۔
قال للہ تعالیٰ: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)-
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)-
و في الدر المختار: وفي الخلاصة القرض بالشرط حرام والشرط لغو بأن يقرض على أن يكتب به إلى بلد كذا ليوفي دينه. وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)-
وفي سنن أبي داود: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليشربن ناس من أمتي الخمر يسمونها بغير اسمها» اھ (3/ 329) -
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1