کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤ ں میں آغاخان فاؤنڈیشن کا ایک دفتر ہے اور اسی دفتر سے گاؤں کے تمام ترقیاتی کام کراتے ہیں، مثلا کہیں سٹرکیں بنواتیں ہیں کہیں ندیوں کی تعمیر کرا تے ہیں اور انہیں ندیوں سے اس علاقے کی زمین آباد ہے۔ اور اسی فاونڈیشن کی رقم کا فی لوگوں کی ضروریات زندگی بھی پوری کر تی ہے۔ آپ سے گزارش ہے کہ آپ قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ کہ کیا یہ آغاخان فنڈیشن کی رقم جائز ہے یا ناجائز ہے، اگر چہ آپ اسے ناجائز فرماتے ہیں تو جس ندیوں کو انہوں نے جاری کر ا دیا ہے ان ندیوں کا پانی مویشی وغیرہ پیتے رہے ہیں توان کو کیا کیا جائے؟ اور جو اس پانی سے زمین آبادہوئی اور لوگوں کو فائد ہ پہنچا اس کا کیا کیا جائے۔ نیز اس زمین میں نہ تو کوئی ندی ہے اور نہ ہی کوئی ندی وہاں آسکتی ہے۔ اس کی تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
جناب کی عین نوازش ہو گی۔
مذکور فرقہ باجماع امت کافر وزندیق اور دائر ہ اسلام سے خارج ہے، اور یہ دین اسلام اور مسلمانوں کے شدید ترین دشمن ہیں اہل علم کو چاہئے کہ عام مسلمانوں کو ان کی شرارتوں سے آگاہ کریں۔ تاکہ سادہ لوح مسلمانوں کی غربت وافلاس کو غنیمت سمجھ کر ان کے ایمان کا سودا نہ کر بیٹھیں۔ اس لئے ان کے ساتھ میل جول اور ان کی مذکو ر فاؤنڈیشن کے تحت مذکور ترقیاتی کاموں سے مقصد محض علاقائی سطح پر ہم وطن لوگوں کے مسائل کو حل اور ان کی شکایت اور ان کی تکالیف کو دور کرنا ہی ہو تو اس میں صورت میں ان رفاہی امور یعنی ندیوں وغیرہ سے مسلمانوں کا منتفع ہو نا بھی جائز اور درست ہے ۔
فی الرد: وللعلامۃ المحقق عبدالرحمٰن العادی فیھم فتوی مطولۃ: وذکر فیھا انھم ینتحلون عقائد النصیریۃ والاسماعیلیۃ الذین یلقطون بالقرامطۃ والباطنیۃ الذین ذکرھم صاحب المواقف ونقل عن علماء المذاہب الاربعۃ انہ لا یحل اقرارھم فی دیار الا سلام بجزیۃ ولا غیرھا، ولا تحل مناکحتھم ولا ذبائحھم، وفیھم فتویٰ فی الخیریۃ ایضا فراجعھا۔ (ج۴ص ۴۴۲)