کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
1. کیا جو شخص لوگوں کو مروجہ تبلیغی جماعت سے یہ کہہ کر بددل /بدظن کرتا ہے کہ آج کل رائے ونڈ مرکز میں بہت اختلاف ہوگیاہے اور اب وہاں پر صرف ایک گروہ دعوت و تبلیغ کا نہیں، بلکہ وہاں پر حاجی عبدالوہاب صاحب نے اپنا گروہ بنا لیا ہے، مولانا جمشید صاحب نے اپنا گروہ ، مولانا احسان الحق صاحب نے اپنا اور مولانا طارق جمیل صاحب نے اپنا گروہ بنا لیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ آپ سے سوال یہ ہے کہ اُس شخص کی بات کی آپ کی نظر میں کیا حیثیت ہے؟
2. کیا آپ تبلیغی جماعت کی مکمل حمایت کرتے ہیں یا اُن سے اختلاف رکھتے ہیں، کیونکہ میں آپ کی بات پر آنکھیں بند کر کے اعتبار کرتا ہوں؟
3. تبلیغی جماعت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
4. کیا تبلیغ جماعت میں نکلنا اللہ تعالیٰ کے راستے میں داخل ہے؟
5. اکثر ہمارے تبلیغی بھائی جب اللہ تعالیٰ کے راستے سے نکلنے کے فضائل بیان کرتے ہیں تو وہ یہ بات بھی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکل کر ایک نماز پڑھنے کا ثواب اننچاس کروڑ نمازوں کے ثواب تک پہنچ جاتا ہے۔ براہ ِکرم اس بات کی حقیقت سے بھی آگاہ فرمائیں۔
۱ تا۴۔ تبلیغی جماعت اپنے بنیادی مقصد اور طریقِ کار کی رو سے بلاشبہ درست اور ان کا یہ مخصوص طریقہ تبلیغ شرعاً مستحب اور عملاً مفید ہے اور اللہ کی رضا کے لیے ہونے کی بنا پر فی سبیل اللہ کے زمرے میں داخل ہے، اس لیے وقتی طور پر اگر فی نفسہ بڑوں میں اختلاف ہو بھی صحیح تو اس کو بنیاد بنا کر کسی اچھے مقصد میں شرکت سے رکنا یا لوگوں کو روکنے کی سعی کرنا، کوئی عقل مندی نہیں۔
۵۔ دین کی اشاعت اور تبلیغ یا تحصیلِ علمِ دین یا جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ میں نکلنے یا لگنے والے کی نماز، روزہ، ذکر وغیرہ کے بارے میں ایسی کوئی صریح حدیث نہیں ملی۔ جس کے الفاظ سے صاف صاف ثابت ہو کہ ایک نماز اور ایک تسبیح وغیرہ کا ثواب اننچاس کروڑ کے برابر ملتا ہے، البتہ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکل کر ( اپنی ذات پر) خرچ کرنے والے کو ایک درہم کے بدلے سات لاکھ درہم خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔
اور دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکل کر نماز، روزہ، ذکر کا ثواب اللہ تعالیٰ کی راہ میں روپیہ خرچ کرنے سے سات سوگنا ملتا ہے، وہ تعلیمِ دین ہو یا جہاد و تبلیغ ہو، ان میں نکلنے والوں کے لیے نماز ،روزہ اور ذکر و تسبیح کا ثواب اننچاس کروڑ گنا بنتا ہے، اگرچہ یہ دونوں حدیثیں بھی سنداً ضعیف ہیں، مگر فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیثیں بھی معتبر ہوتی ہیں، البتہ ان احادیث سے استدلال اور ان کے ضعیف پر تنبیہ کیے بغیر ان کی تشہیر سے احتراز چاہیے۔ واللہ أعلم بالصواب!