کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پچھلوں دنوں میں ایم کیوایم کے رہنما نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ حکومت سے درخواست کریں گے کہ انہیں ایک جگہ دی جائے جہاں وہ تمام اقلیتوں کی عبادت گاہیں بنائیں گے۔ قادیانیوں کی بھی ( نعوذ باللہ) عبادت گاہ بنائیں گے ، جہاں وہ تمام اپنی اپنی عبادات کر سکیں گے۔ تو اس پر ملک کے بیشتر علماءِ کرام نے اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس دوران میرے دل میں ایسے ہی خیال اور سوچ آئی کہ اس رہنمانے ایسے کوئی قابلِ اعتراض بات تو نہیں کی۔آئینِ پاکستان کے مطابق بھی سب کو پاکستان میں مذہبی آزادی ہے۔اپنی اس سوچ اور خیال کا اظہار میں نے اپنے ایک دوست سے بھی کیا ، لیکن بعد میں مجھے باربار یہ خیال آتا ہے ،وسوسہ آتا ہے کہ میری یہ سوچ اور اس کا اظہار قادیانیوں کی حمایت کے زُمرے میں تو نہیں آتا ۔ بخدا میری نیت کسی کی حمایت کرنا نہیں تھی، نہ قادیانیوں کی اور نہ ایم کیو ایم کے اُس راہنما کی۔ میں الحمد اللہ! مسلمان ہوں او رتمام اسلامی عقائد پر صدقِ دل سے کامل ایمان رکھتا ہوں، کہ کہیں میرا ایمان تو باطل نہیں ہوگیا۔ مجھے بار بار افسوس اور پشیمانی ہوتی ہے اور میں بہت پریشان ہوں ہر وقت توبہ و استغفار کرتا رہتا ہوں۔
سوالات یہ ہیں کہ :
۱۔ میری اس سوچ اور خیال اور اس کے اظہار سے میرا ایمان تو قائم ہے؟ کیا میں خدا نخواستہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوگیاہوں؟
۲۔ کیا مجھے تجدیدِ ایمان کرنا ہوگا یا نہیں؟ بس توبہ استغفار کر لوں؟
۳۔ اگر تجدیدِ ایمان کرنا ہوگا تو اس کا کیا طریقہ کار ہے؟اور کیا مجھے تجدیدِ ایمان کے بعد تجدیدِ نکاح بھی کرنا ہوگا؟ براہ ِ کرم شریعت کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات سے مطلع فرمائیں۔
اگرچہ یہ وساوس اور سوچ انتہائی درجہ قبیح اور بُری ہے اور اسی قسم کے بیانات دِلوا کر قادیانی اور مسلمانوں میں افتراق و انتشار پیدا کرنے اور اپنے معاون پیدا کرنے کی نا مسعود کوشش کرتے رہتے ہیں، اس سلسلہ میں ہوشیار رہنے کی بہت سخت ضرورت ہے، تاہم محض اس قسم کی سوچ نہ تو دائرہ اسلام سے خروج کا سبب ہے اور نہ ہی اس سوچ سے سائل کو ایسے لوگوں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے لازم ہیں جو عقیدہ ختم نبوت کے خلاف اپنی سوچ رکھتے ہیں یا قادیانیوں کو تقویت پہنچانے اور ذاتی مفادات کےلیے ان کی حمایت کی سعی کرتے ہیں اور ثانیاً اس قسم کے تذکروں سے اجتناب کرے اور ساتھ ساتھ ’’رب إنی أعوذبک من ہمزات الشیطٰن، وأعوذ نک رب أن یحضرون‘‘۔ اور استغفار کا بکثرت ورد بھی کرے۔
ففی مشكاة المصابيح: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «إن الله تعالى تجاوز عن أمتي ما وسوست به صدورها ما لم تعمل به أو تتكلم» اھ(1/ 26)-
وفیها أیضاً:وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال: جاء ناس من أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - فسألوه: إنا نجد في أنفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به. قال: «أو قد وجدتموه» قالوا: نعم. قال: «ذاك صريح الإيمان». رواه مسلم اھ(1/ 26)-
و فی الدر المختار: فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس اھ(4/ 224) واللہ أعلم بالصواب