السلام علیکم !مجھے پوچھنایہ ہےکہ شب برات کی فضیلت کیاہے اور اس کے متعلق کونسی احادیث موجود ہیں اور کس کتاب میں ہیں، خاص کر شعبان کی 14اور 15شب کو روزہ کی کیا فضیلت ہے ؟اور کیا اس دن پورے سال کے فیصلے کیے جاتے ہیں کہ کون کب آئے گا اور کس کو کتنا رزق ملے گا؟
اگر چہ صحیح اور مستند روایات سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ زندگی ،موت اور رزق وغیرہ سے متعلق فیصلے لیلۃالقدر (شب قدر) میں ہوتے ہیں، جبکہ بعض روایات حدیث سے اس رات میں فیصلے ہونے کا بھی ذکر ملتاہے اور اسی بناء پر قرآن کریم کی سورۃ دخان کی ابتدائی آیت "اناانزلناہ فی لیلۃ مبارکہ "میں لیلۃمبارکہ سے بعض مفسرین نے "شب براءت " مراد لیا ہے، مگر یہ درست نہیں اور اس سے شب براءت کی فضیلت متاثر نہیں ہوتی، کیونکہ اس کے بارے میں ذخیرہ احادیث میں بہت سی روایات موجود ہیں ۔اور اگرچہ وہ سنداًضعیف ہوں، مگر کثرت کی بناء پر حسن کے درجہ کو پہنچی ہیں، اس فضیلت کیلیےاس قسم کی ضعیف احادیث بھی کافی ہیں، اس لیے اس رات میں بغیر پابندی رسم کے نسبتاًزیادہ عبادت کرنی چاہیے ۔جبکہ بعض احادیث مبارکہ میں پندرہ شعبان کے روزے رکھنے کا بھی حکم ملتاہے اور ایام بیض میں سے ہونے کی وجہ سےبھی اس میں روزہ رکھنے میں حرج نہیں ۔
وفی المرقاۃ: وإذا ثبت ان هذا النزول لیلة القدر ثبت أن اللیلة التی یفرق فیها کل امر حکیم فی الآیة ھی لیلة القدر لا لیلة النصف من شعبان اھ (۳/۳۸۵) واللہ أعلم بالصواب!