کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارے یہاں ایک گروہ اور فرقہ زور پکڑتا جارہا ہے جو اپنے آپ کو ’’جماعت المسلمین‘‘ کہلاتے ہیں اور اس گروہ کے بانی ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی ہیں جن کے نظریات کے مطابق صرف ان کے پیروکار ہی مسلمان ہیں باقی لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور گمراہ ہیں یہاں تک کہ بہت سے اولیاء کرام، سلف صالحین اور اکابر علماء دیوبند کو بھی مسلمان نہیں سمجھتے، دعوت توحید کی دیتے ہیں، دوسرے مسلمانوں کو سلام نہیں کرتے، اگر وہ سلام کریں تو اُن کا جواب نہیں دیتے، اور نہ ان کے ساتھ مناکحت کرتے ہیں، ان کے مزید نظریات مرسلہ رسائل سے بھی واضح ہوجائیں گے۔
براہِ کرم ان تفصیلات کی روشنی میں اس گروہ کے بارے میں شرعی جواب سے مطلع فرمائیں کہ اس گروہ اور جماعت میں شمولیت اور ان کے خیالات کو اختیار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کے لٹریچر پڑھنا کیا حکم رکھتا ہے؟
سوال میں مذکورہ فرقہ جو اپنے آپ کو ’’جماعت المسلمین‘‘ کہتا ہے اور علماء حق اور دیگر اہلِ اسلام کو دائرۂ اسلام سے خارج سمجھتا ہے، یہ لوگ خدا اور رسول اللہ ﷺ کے نافرمان، اسلام اور اہلِ اسلام کے دشمن اور بدخواہ ہیں ان کے بارے میں ہماری اور پورے پاکستان کے تمام اہلِ فتویٰ علماء دیوبند و بریلوی اور دیگر اہلِ علم کی رائے یہی ہے کہ یہ گروہ (فرقہ) غلو میں مبتلا ہے اور راہِ اعتدال سے ہٹ کر ضلالت و گمراہی میں مبتلا ہے۔ والعیاذ باللہ!
لہٰذا اس جماعت میں شمولیت اختیار کرنا اور ان کے خیالات کو اپنانا اور ان کے بیانات سننا قطعاً ناجائز ہے اور ان کے لٹریچر وغیرہ پڑھنے سے احتراز کرنا لازم ہے۔
وفی المشکوٰۃ: لا یرمی رجل رجلًا بالفسوق ولا یرمیہ بالکفر الا ارتدت علیہ ان لم یکن صاحبہ کذٰلک۔ (رواہ البخاری: ص٤١١) واللہ اعلم