السلام علیکم! میں اس بارے میں معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ ۲۶ رجب کی رات کو نمازیں پڑھنا، کونڈے بنانا اور اگلے دن کا روزہ رکھنا کیا یہ بدعت ہے؟ میری والدہ کہتی ہیں کہ ہر ایک کو ضرور روزہ رکھنا چاہیے، جیسا کہ پرانے لوگ پرانے وقتوں سے یہ عمل کرتے آرہے ہیں اور انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ یہ نفل روزہ ہوتا ہے، جس کا کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے۔ میں پچھلے مہینہ اپنے آفس کے قریب ایک مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنے گیا، جہاں امام صاحب ’’بدعت‘‘ پر بیان فرما رہے تھے، انہوں نے کہا: کہ ۲۷ رجب کو روزہ رکھنا بدعت ہے اور ہمیں دوسروں کو اس بات پر زور دینا چاہیے کہ وہ اپنا روزہ توڑ دیں، ایسا کرنے سے ہمیں ثواب ملےگا۔والسلام!
یہ اگرچہ نفلی عبادات ہیں اور ان کی ادائیگی بلاشُبہ باعثِ ثواب ہے، مگر اس رات کا شبِ معراج ہونا اور اس رات ودن میں اہتمام کے ساتھ نماز، روزہ وغیرہ جیسی خصوصی اور اس نسبت سے عبادات کا حضورﷺ اور صحابہ وتابعین سےکوئی ثبوت نہیں، اس لیے بغیر دلیل اس کو لازم اور ثابت سمجھ کر کرنا اور اس کو زیادہ باعثِ ثواب سمجھنا بدعت کے زُمرے میں آتا ہے۔ اور اسی لیے علماءِ کرام اس سے منع کرتے ہیں۔
ففي روح المعاني تفسیر الآلوسي: وكذا اختلف في شهره وليلته فقال النووي في الفتاوى: كان في شهر ربيع الأول، وقال في شرح مسلم (ٳلی قوله)ٲنه في شھر ربیع الآخر، وجزم في الروضة بانه في رجب، وقیل في شھر رمضان (ٳلی قوله)قیل ٳن الاسراء کان في سبع عشرۃ من شھر ربیع الاول(ٳلی قوله)وحکی ٲنھا لیلة السابع والعشرین من شھر ربیع الآخر (ٳلی قوله)نعم! لم یشرع التعبد فیھا اھ (۸/۸)۔
وفي مرقاة المفاتیح: ٲن من ٲصر علی ٲمر مندوب وجعله عزما ولم یعمل بالرخصة فقد ٲصاب منه الشیطان من الاضلال اھ (۳/۳۱)۔
وفي البحر الرائق: ومن هنا يعلم كراهة الاجتماع على صلاة الرغائب التي تفعل في رجب في أول ليلة جمعة منه وأنها بدعة اه (2/ 56)