کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سلفی کون لوگ ہیں اور آپ حضرات کا شیخ ناصر الدین البانی کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟
ہماری معلومات کے مطابق شیخ ناصر الدین البانی اگرچہ ایک عالمِ دین اور صاحبِ قلم ہیں مگر ان کا طرز اور اندازِ بیان متعصبانہ اور تنقیدانہ ہے اور موجودہ دور کے سلفی حضرات جو ہمارے یہاں غیر مقلد کے نام سے پکارے اور پہچانے جاتے ہیں، البانی اور ان کے ہم خیال بعض دوسرے حضرات کو اپنا پیشوا تصور کرتے ہیں۔
جبکہ سلفی یا غیر مقلد اس شخص کو کہا جاتا ہے جس میں نہ تو خود اجتہاد کی صلاحیت ہو اور نہ ائمۂ مجتہدین میں سے کسی کی پیروی اور تقلید کا قائل ہو،قرآن و سنت کے لفظی معنوں کا اعتبار کرکے اپنی خواہش کے مطابق عمل کرتا ہو، کسی لفظ اور حکم کی اصل حقیقت اور مراد تک پہنچنے کو بے فائدہ اور عبث سمجھتا ہو اور جن أئمہ مجتہدین نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین اور تبع تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم سے علم حاصل کرکے ہر معاملہ اور حکم کی مراد اور حقیقت تک پہنچ کر قیاس اور اجتہاد کے ذریعہ جو احکام بیان فرمائے ہیں انہیں وہ بُرا بھلا اور گالیاں تک دیتے ہیں، جبکہ ایک عام مسلمان کو گالی دینا رسول اکرم ﷺ نے فسق قرار دیا ہے، ایسے لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثہ کرنے سے احتراز کرنا چاہئے، کیونکہ یہ لوگ اپنے مدِمقابل کی حق بات کو بھی قطعاً تسلیم نہیں کرتے ان کی زبان کی نوک پر دو جملے ہر وقت ہوتے ہیں اوّل یہ کہ تمہاری بات حدیث سے ثابت نہیں اور دوسری یہ کہ یہ حدیث ضعیف ہے، لہٰذا اس قسم کے متعصب لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثہ میں وقت ضائع کرنے سے بھی احتراز ضروری ہے۔
البتہ تبلیغی جماعت علماءِ ’’اہل سنت والجماعت‘‘ کی ہی ایک تنظیم ہے، جولوگوں کو ایمان اور عمل پر کھڑا کرتی ہے اور اس سے متعلق ہوکر لاکھوں انسان راہِ ہدایت پر آچکے ہیں (تجربہ اس بات کا شاہد ہے)، اس جماعت کے ساتھ متعلق ہوکر توجہ، دھیان اور اخلاص کے ساتھ کام کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اعمال کا پختہ ہوجاتا ہے جبکہ تبلیغی نصاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ کے چند رسائل کا مجموعہ ہے جو عام طور پر تبلیغی جماعت اپنے ساتھ رکھتی ہے اور اس سے فضائل پڑھ پڑھ کر اعمال کا جذبہ اور شوق پیدا ہوتا ہے، اعمال کی رغبت اور شوق پیدا ہونے کے اعتبار سے یہ ایک اچھی کتاب ہے۔ واﷲ اعلم بالصواب