کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) تسبیح پڑھتے ہوئے دانے آگے کی طرف کریں یا پیچھے کی طرف؟ شرعاً تسبیح پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟
(۲) نومولود بچے کے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جن احادیث سے یہ ثابت ہے وہ قابلِ عمل نہیں۔
از راہِ کرم تفصیلی جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
(۱) تسبیح ہاتھ میں لے کر اس کے دانے گھمانے میں جیسے بھی سہولت ہو شرعاً جائز ہے۔
(۲) نومولود بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا درجِ ذیل احادیث سے ثابت اور سنت ہے۔
وفی سنن الترمذی: عن عبید اﷲ بن رافع عن ابیہ قال رأیت رسول اﷲ ﷺ اذّن فی اُذن الحسن بن علی حین ولدتہ فاطمۃ بالصلوٰۃ ھذا حدیث صحیح والعمل علیہ۔ (ج۲، ص۱۸۳)-
وفی مرقاۃ المفاتیح: والمعنی أذّن بمثل الصلوٰۃ وھذا یدل علی سنیۃ الاذان فی أذن المولود وفی شرح السنۃ روی أن عمر بن عبد العزیز کان یؤذن فی الیمنٰی ویقیم فی الیسرٰی اذا ولد الصبی قُلتُ قد جاء فی مسند ابی یعلی الموصلی عن الحسین مرفوعًا من ولِدلہ ولد فأذّن فی أذنہ الیمنی وأقام فی أذنہ الیسرٰی لم تضرہ أم الصبیان (الٰی قولہ) والأظہر أن حکمۃ الاذان فی الأذن أنہ یطرق سمعہ أوّل وہلۃ ذکر اﷲ تعالٰی علی وجہ الدعاء إلی الإیمان۔ اھـ (ج۷، ص۷۵۰) واﷲ اعلم