کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص حالتِ غصہ میں اپنی لڑکی جو قرآن اُٹھا کر جا رہی تھی ، جس کی اس نے منزل سننی تھی، اس سے کہا ’’چل بھونک‘‘ یہ سبقتِ لسانی سے ہوگیا تھا۔ مقصد کلمۂ کفر نہ تھا اور نہ قرآن کا ارادہ تھا،اس کا کیا حکم ہے؟ وہ آدمی بہت پریشان ہے کہ ظاہری صورت تو قرآن اٹھانے اور پھر منزل سننی تھی۔
نیز فرما دیں کلماتِ کفر کون کون سے ہیں اور وہ ہر حال میں معتبر ہیں یا جو قصد او رارادے سے ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور خط کشیدہ کلمات اگر واقعۃً سبقتِ لسانی اور بے احتیاطی کے طور پر شخصِ مذکور کی زبان سے جاری ہو گئے ہوں، اس سے قرآنِ کریم کی توہین وغیرہ قطعاً مقصود نہ ہو تو اگر چہ اس صورت میں کفر لازم ہو کر وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوا، مگر اُسے چاہیے کہ بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے اور آئندہ کے لیے اس قسم کے کلمات بولنے سے مکمل احترازکرے، جبکہ کلماتِ کفر سمجھنے کے لیے مستقل ابواب اور رسائل وغیرہ ہیں، جن کا احاطہ یہاں مشکل ہے۔ البتہ جس کلمہ کا حکم معلوم کرنا ہو ، اس کی تفصیل بیان کر کے حکمِ شرعی بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔
ففی الخانیة: الجاھل إذا تکلم بکفر و لم یدر انه کفر لایکون کفراً و یعذر بالجہل، وفی الینا بیع: لایکون الکفر کفراً حتی یعقد علیه القلب اھ (۵/۴۸۵)-
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 6امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1