کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس بارے میں کہ :
(۱) ہم اکثر سنتے رہتے ہیں کہ زمین خیانت نہیں کرتی، لیکن آج کل مسافر لوگ پردیس میں رہتے ہوئے جب ان کا کوئی ساتھی انتقال کرجاتا ہے تو ان میں سے بعض اس مردے کو امانت کے طور پر زمین میں دفن کردیتے ہیں اور پھر جتنی مدت کیلئے وہ مردہ دفن کیا ہوتا ہے اسے نکال لیتے ہیں اور اس مردے کو اپنے دیس لے جاکر دفن کردیتے ہیں، کیا یہ امانت رکھوانا شریعت کے اعتبار سے صحیح ہے، اگر صحیح ہے تو کتنی مدت کیلئے؟ اگر مردہ امانت ہے تو پھر اس کا جسم خراب ہوجانا کیسا ہے؟ کیا یہ زمین کی خیانت شمار ہوگی؟
(۲) کون کون لوگ شہید شمار ہوتے ہیں؟ کون کون سے شہید زمین (قبر) میں سلامت رہتے ہیں جسم کے اعتبار سے؟
(۳) ایک مسجد میں کتنی جماعتیں جائز ہیں؟ کیا ایک جماعت کے بعد مسجد میں مقامی لوگ دوسری جماعت کرسکتے ہیں یا مسافر لوگ اس طرح کرسکتے ہیں؟ کیا دوسری جماعت کو جماعت کی شمار کا ثواب ملے حاصل ہوگا؟
ایسی باتیں کہ زمین خیانت نہیں کرتی وغیرہ ’’محض من گھڑت ہیں‘‘ شریعت میں ایسی باتوں کا کوئی ثبوت نہیں اسی طرح کسی مردہ کو دفن کرنے کے بعد بغیر ضرورتِ شدیدہ کے اسے نکال کر دوسری جگہ منتقل کرنا قطعاً جائز نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔
(۲) شہداء کی تین قسمیں ہیں اول وہ جو اعلاءِ کلمۃ اﷲ کیلئے کسی معرکہ میں حاضر ہو ،پھر اس لڑائی میں دشمن کے ہاتھ سے مارا جائے یہ دنیا اور آخرت دونوں اعتبار سے شہید ہے یعنی دنیا میں بھی اس پر شہیدوں کے احکام جاری ہوں گے کہ بغیر غسل کے اسے دفن کیا جائے گا، اور آخرت میں بھی اس کیلئے عنداﷲ بڑا اجر و ثواب ہے۔
دوسری قسم وہ شہید جو اگرچہ اس طرح کے معرکہ وغیرہ میں قتل ہوجائے مگر اس کی شہادت کسی دنیوی غرض کی وجہ سے ہوئی ہو ، اسے شہیدِ دنیا کہتے ہیں یعنی دنیا میں کفن دفن کے معاملات میں پہلی قسم کے شہداء کی طرح اس کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جائے گا مگر آخرت میں اس کیلئے کوئی اجر و ثواب نہیں بلکہ اُلٹا پکڑ ہوگی۔
تیسری قسم وہ شہید ہے جو کسی حادثہ جیسے کشتی کے ڈوب جانے یا بس کے ایکسیڈنٹ ہوجانے یا آگ میں جل جانے یا مکان وغیرہ کے گر جانے کی وجہ سے نیچے دب کر فوت ہوجائیں چنانچہ اس قسم میں بعض حضرات کے نزدیک تیس انواع سے بھی تعداد تجاوز کرگئی ہے اس قسم کے شہید کو شہیدِ آخرت کہتے ہیں یعنی دنیا میں اس پر شہید کے احکام جاری نہیں ہوں گے البتہ آخرت میں ان کیلئے اجر و ثواب ضرور ہے۔
واضح ہو کہ یہ مسئلہ کافی تفصیل رکھتا ہے جس کیلئے مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں، لہٰذا مزید تفصیل مطلوب ہو تو کتاب الشہادۃ کا مطالعہ کرلیا جائے۔
(۳) مسجد محلہ جس میں امام اور مؤذن مقرر ہے دوسری جماعت کرنا مکروہِ تحریمی ہے، لہٰذا اس سے احتراز کرنا چاہئے۔
وفی الشامیۃ: وأما نقلہ بعد دفنہ فلا مطلقا۔(ج۲، ص۲۳۹).
وفی الشامیۃ: (قولہ فی الشہد الکامل) وہو شہید الدنیا والآخرۃ، وشہادۃ الدنیا بعدم الغسل الالنجاسۃ أصابتہ غیر دمہ کما فی ابی السعود، وشہادۃ الآخرۃ بنیل الثواب الموعود للشہید أفادہ فی البحر والمراد بشہید الآخرہ من قتل مظلوما أو قاتل لإعلاء کلمۃ اﷲ حتی قتل، فلو قاتل لغرض دنیوی فہو شہید دنیا فقط تجری علیہ أحکام الشہید فی الدنیا وعلیہ فالشہداء ثلاثۃ(ج۲، ص۲۵۲)۔