کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
نمازِ جنازہ کے بعد دعاء مانگنا کیسا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں دعاء مانگنا اچھا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، بعض تو دعاء کو ضروری جانتے ہیں، نہ مانگنے والے کو برا بھلا کہتے ہیں، اور جھگڑنے تک تیار ہوجاتے ہیں، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ، جنازہ کے بعد اجتماعی دعاء جیسا کہ آج کل رواج ہے یہ بدعت ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا بلکہ نمازِ جنازہ یہ خود دعا ہے، اب علمائے کرام سے ہماری یہ عرض ہے کہ ،قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین کے مبارک دور اور اسلافِ امت کے عمل اور ائمہ مجتہدین کی مبارک آراء کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیں! تا کہ حق پہلو اور مسئلہ کی صحیح حقیقت مخفی نہ رہے، اور غلط راہ پر چلنے والوں کو ایک صحیح راہ ہاتھ میں آجائے۔ جزاکم اللہ واحسن الجزاء!
نمازِ جنازہ خود دعا ہے، اس کے بعد اجتماعی دعا کرنا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے ثابت نہیں، ایک غیر ضروری امر کو واجب کا درجہ دے دینا ،اور اس میں شرکت نہ کرنے والوں کو بنظرِ حقارت دیکھنا، اس دعا کے بدعت ہونے کی واضح دلیل ہے، لہٰذا اس دعا سے احتراز لازم ہے، پس جو لوگ اس دعا کے بدعت اور عدم جواز کے قائل ہیں، ان کا کہنا درست ہے۔
ففی المرقاۃ: ولا یدعو للمیت بعد صلوٰۃ الجنازۃ لانه یشبه الزیادۃ فی صلوٰۃ الجنازۃ اھ(٦٤/٤)
و فی البحر الرائق: وقید بقوله بعد الثالثة لانه لا یدعو بعد التسلیم اھ (١٨٣/٢)
وفی الفتاویٰ البزازیة: لا یقوم بالدعاء بعد صلوٰۃ الجنازۃ لانه دعا مرۃ اھ (١/٨٠)
و فی الفتاویٰ السراجیة: لیس فی صلوٰۃ الجنازۃ دعاء مؤقت اذا فرغ من الصلوٰۃ لا یقوم بالدعاء اھ (٢٣) واﷲ اعلم!