سود

گھر بنانے کیلئے بینک سے قرض لینا

فتوی نمبر :
5941
| تاریخ :
معاملات / مالی معاوضات / سود

گھر بنانے کیلئے بینک سے قرض لینا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم جناب میں ایک طالب علم ہوں اور اپنے والدین کی ایک ہی اولاد ہوں میرے والد صاحب آج کل صاحبِ فراش ہیں انہیں فالج ہے، وہ چاہتے ہیں کہ گھر بنائے ہماری تھوڑی سی زمین ہے پانچ (5) مرلے اس سلسلے میں ہم نے المیزان بینک سے معلومات کی مگر ان کی شرائط اتنی سخت ہیں کہ عام آدمی اس سے مستفید نہیں ہو سکتا وہاں سے صرف امیروں کے لئے قرضے ملتے ہیں، اس وقت ہم کرائے کے مکان میں رہتے ہیں، اور مالکِ مکان نہایت غیر مہذب شخص ہے اسی لئے والد صاحب مکان بنانے کا سوچ رہے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ آیا ہم قرض کے سلسلے میں کسی اور ادارے رجوع کرسکتے ہیں ؟ مثلا ایچ، بی، ایف ، سی وغیرہ کیونکہ اور کوئی ذریعہ نہیں ہے، میزان بینک سے ہمیں مکمل طور پر مایوس کن جواب ملا ہے، برائے مہربانی جواب سے مستفید فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نیا مکان بنانا لازم نہیں ہے، بلکہ سودی معاملات سے بچنا لازم ہے، چونکہ مذکور ادارہ H.B.F.C سودی معاملہ کے تحت تعمیرِ مکان میں تعاون کرنے کا پابند ہے اس لئے اس سے قرض لے کر تعمیر مکان جائز نہیں البتہ اگر کوئی دوسرا ادارہ یا شخص بلا سود قرض فراہم کردے تو اس سے تعمیرِ مکان بلاشبہ جائز اور درست ہے، اور اگر یہ صورت ممکن نہ ہو تو پھر یہ صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ کسی دوسرے ادارے یا شخص سے مذکور جگہ پر اپنے پیسے سے مکان تعمیر کروالیں اور جب مکان تعمیر ہوجائے تو وہ ادارہ یا شخص مناسب منافع رکھ کر قسطو ں کی صورت میں یہ عمارت آپ پر بیچ دے اس طرح اسے مناسب نفع بھی حاصل ہوجائے گا اور سائل مکان کا مالک بھی بن جائے گا اور سودی معاملہ بھی انجام نہ دینا پڑے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (سورۃ البقرۃ ایۃ276)۔
و قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( سورۃ ال عمران ایۃ 130)۔
و فی صحیح مسلم: وعن جابر رضی اللہ تعالی عنہ قال لعن رسول اللہ ﷺ اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء (2/27)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حنیف شریف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 5941کی تصدیق کریں
0     609
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • موبائل فون میں ایڈوانس لون بیلنس Mobile Advance Loan Balance پر سود کا مسئلہ

    یونیکوڈ   اسکین   سود 4
  • جی پی فنڈ (GP Fund) پرملنے والی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • اکاونٹ کی استعمال کی شرط لگانے سے ملنے والی فری سہولت کا استعمال کرنے کی گنجائش ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 0
  • کشف فاؤنڈیشن کی کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   سود 1
  • ہاؤس بلڈنگ فائنانس والوں سے قرضہ لینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   سود 1
  • حرام مال کا حکم - کیا غریب کیلئے لینا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   سود 3
  • ایزی کیش کے نام سے قرض لینے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 4
  • کیا سودی رقم میں مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 1
  • سودی بینک میں pls اکاونٹ کھلوانا

    یونیکوڈ   سود 0
  • بینک سے سود کی رقم کس مصرف میں خرچ کرسکتا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • اگر ادارے میں سود سے بچنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اسمیں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سودی اداروں میں رقم رکھنے کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرآن و حدیث کی روشنی میں”ربوا“ کی حقیقت کیا ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • سود پر قرض لینے والے شخص کی اولاد کے لئے حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کریڈٹ کارڈکی پراسنگ فیس کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرض پر صرف اس صورت میں اضافی رقم لینا کہ جب مقررہ وقت پر ادا نہ کیا جائے

    یونیکوڈ   سود 0
  • غیر مسلم ممالک سودی معاملہ کرنا

    یونیکوڈ   سود 0
  • قرضہ اتارنے کیلئے سودی قرض لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • پھٹے ہوئے نوٹ کو آدھی قیمت میں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   سود 1
  • پراویڈنٹ فنڈ پر سود کے عنوان سے ملنے والی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا

    یونیکوڈ   سود 1
  • مالکِ مکان کا سودے سے پیچھے ہٹنےپر ،خریدار کا اس سےبیعانہ کے ساتھ اضافی رقم لینا

    یونیکوڈ   سود 0
  • ایزی پیسہ میں ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا صرف سود وصول کرنا حرام ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
  • کیا سود دینےسے آمدن حرام ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   سود 0
Related Topics متعلقه موضوعات