السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم جناب میں ایک طالب علم ہوں اور اپنے والدین کی ایک ہی اولاد ہوں میرے والد صاحب آج کل صاحبِ فراش ہیں انہیں فالج ہے، وہ چاہتے ہیں کہ گھر بنائے ہماری تھوڑی سی زمین ہے پانچ (5) مرلے اس سلسلے میں ہم نے المیزان بینک سے معلومات کی مگر ان کی شرائط اتنی سخت ہیں کہ عام آدمی اس سے مستفید نہیں ہو سکتا وہاں سے صرف امیروں کے لئے قرضے ملتے ہیں، اس وقت ہم کرائے کے مکان میں رہتے ہیں، اور مالکِ مکان نہایت غیر مہذب شخص ہے اسی لئے والد صاحب مکان بنانے کا سوچ رہے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ آیا ہم قرض کے سلسلے میں کسی اور ادارے رجوع کرسکتے ہیں ؟ مثلا ایچ، بی، ایف ، سی وغیرہ کیونکہ اور کوئی ذریعہ نہیں ہے، میزان بینک سے ہمیں مکمل طور پر مایوس کن جواب ملا ہے، برائے مہربانی جواب سے مستفید فرمائیں۔
واضح ہو کہ نیا مکان بنانا لازم نہیں ہے، بلکہ سودی معاملات سے بچنا لازم ہے، چونکہ مذکور ادارہ H.B.F.C سودی معاملہ کے تحت تعمیرِ مکان میں تعاون کرنے کا پابند ہے اس لئے اس سے قرض لے کر تعمیر مکان جائز نہیں البتہ اگر کوئی دوسرا ادارہ یا شخص بلا سود قرض فراہم کردے تو اس سے تعمیرِ مکان بلاشبہ جائز اور درست ہے، اور اگر یہ صورت ممکن نہ ہو تو پھر یہ صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے کہ کسی دوسرے ادارے یا شخص سے مذکور جگہ پر اپنے پیسے سے مکان تعمیر کروالیں اور جب مکان تعمیر ہوجائے تو وہ ادارہ یا شخص مناسب منافع رکھ کر قسطو ں کی صورت میں یہ عمارت آپ پر بیچ دے اس طرح اسے مناسب نفع بھی حاصل ہوجائے گا اور سائل مکان کا مالک بھی بن جائے گا اور سودی معاملہ بھی انجام نہ دینا پڑے گا۔
قال اللہ تعالی: يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (سورۃ البقرۃ ایۃ276)۔
و قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( سورۃ ال عمران ایۃ 130)۔
و فی صحیح مسلم: وعن جابر رضی اللہ تعالی عنہ قال لعن رسول اللہ ﷺ اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء (2/27)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1