کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ میرا سوال مرنے کے متعلق ہے ، میرے چچا کی خواہش ہے کہ وہ مرنے کے بعد جنت البقیع مدینہ میں دفن ہوں لیکن وہ پاکستان میں رہتے ہیں ، میرا سوال ہے کہ اگر کوئی شخص مدینہ میں مرنا چاہتا ہے اور اسی مقصد کیلئے وہاں جاتا ہے کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ جو مدینہ میں مرے گا سیدھا جنت میں جائے گا ؟ کیا خاص لوگ جنت البقیع میں دفن ہوتے ہیں یا سب دفن ہوسکتے ہیں؟ جواب تفصیل سے دیں، شکریہ
مدینہ منورہ میں انتقال اور جنت البقیع میں دفن ہونے پر احادیثِ مبارکہ میں دخولِ جنت اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت کی بشارت وارد ہوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی سعادت ہے ، لہٰذا سائل کے چچا کی مذکور خواہش بلاشبہ جائز اور درست ہے ، البتہ مدینہ منورہ میں فوت ہونے والے کسی شخص کے بارے میں یقینی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ضرور سیدھا جنت میں داخل ہوگا اس لئے کہ مدینہ منورہ میں موت کا واقع ہو کر جنت البقیع میں دفن ہونا جنت کے اسباب میں سے ایک سبب ضرور ہے، مگر شرط یہ ہے کہ ایسا کوئی سبب بھی نہ پایا جائے جو دخولِ جنت کیلئے مانع ہو ، تاہم ان اسباب کے ہوتے ہوئے مشیتِ ایزدی کا بڑا دخل ہے، لہٰذا ایمان و اعمال صالحہ کے ساتھ ربِ کریم سے اس کی رضا کی دعا بھی کرنی چاہئے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ مدینہ منورہ میں فوت ہونے والے ہر شخص کو جنت البقیع میں دفن کیا جاسکتا ہے ، اور کیا اس کی گنجائش ہے یا نہیں یہ معاملہ وہاں کی انتظامیہ سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔
قال النبی ﷺ: یحشر من ھذا المقبرۃ ، سبعون الفًا یدخلون الجنۃ بغیر حساب وکان وجوہہم القمر لیلۃ البدر۔ اھـ(جمع الفوائد: ج۱، ص۲۰۲۔ وفاء الوفاء: ج۲، ص۸۰)۔
و قال النبی ﷺ: من استطاع ان یموت بالمدینۃ فلیمت ، فمن مات بالمدینۃ کنت لہ شفیعًا أو شہیدًا۔ اھ او کما قال علیہ الصلاۃ والسلام۔(ترمذی شریف: ج۱، ص۲۳۳۔ مسلم شریف: ج۱، ص۴۴۴)۔
قال عمر بن الخطابؓ: اللّٰہم ارزقنی شہادۃ فی سبیلک و اجعل موتی فی بلد رسولک۔(بخاری شریف: ج۱، ص۲۵۳)۔