کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن و حدیث مرد اور عورت کی برابری کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ وہ کس وجہ سے یکساں ہیں اور کس وجہ سے یکساں نہیں؟
میرے دوست نے بتایا ہے کہ قرآن میں مرد اور عورت کا لفظ ۲۴ مرتبہ استعمال ہوا ہے، اس کا کیا مطلب ہے؟
جنسِ انسانی کی دو (۲) مختلف اکائیاں ہونے کے اعتبار سے مرد و عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ، اگرچہ نوعی اور شخصی عوارض کی وجہ سے ان میں عقلاً و شرعاً بعض امور میں فرق پایا جاتا ہے ، اسی بناء پر شریعت نے گھریلو ذمہ داریاں عورت اور بیرونی ذمہ داریاں مردوں پر ڈالی ہیں ، جس کی تفصیل حسبِ ضرورت معلوم کی جاسکتی ہے ، تاہم قرآن مجید میں اس لفظ کا متعدد بار آ نا مختلف احکام سے متعلق ہے، جس کی وضاحت ہر موقع پر موجود ہے۔ واﷲ اعلم بالصواب!