کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) میری والدہ کو ہرنیا ہے (ایک بیماری جس میں پیٹ پھولنا شروع ہوجاتا ہے اس کا علاج عمل جراحی ہے ،جو ہوچکا) اور ان کو الرجی ہے (کسی بھی چیز کا جسم کو قبول نہ کرنا) ان کو پانی جلن پیدا کرتا ہے ان کے معدے کے نچلے حصے پر ، اس لئے وہ کموڈ استعمال کرتی ہیں رفعِ حاجت کیلئے ، ان کا خیال ہے کہ کموڈ میں جو پانی رہتا ہے اس کے چھینٹے ان کے نچلے حصے پر پڑتے ہیں ، اس لئے اپنے آپ کو صاف و پاک رکھنے کیلئے وہ اس حصے کو دھوتی ہیں ، یہ ہرنیا کی وجہ سے ضروری ہے ، اس لئے یہ عمل ان کو بار بار دہرانا ہوتا ہے جب بھی وہ رفعِ حاجت کیلئے جاتی ہیں ، کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنے الرجی زدہ معدہ کے نچلے حصے کو دھوئے بغیر وضو کرلیں اور نماز ادا کرلیں پاک و صاف ہوئے بغیر پانی کے؟
(۲) جب وہ وضو کرتی ہیں تو بہتے ہوئے پانے کے سامنے رہتی ہیں ، صفائی و پاکی کے عمل کو بار بار دہراتے ہوئے، مثلاً اپنے چہرے پر تین دفعہ پانی ڈالنے کے بجائے وہ اس وقت تک پانی ڈالتی رہتی ہیں جب تک کہ وہ مطمئن نہ ہوجائیں، وہ اس عمل سے واقف ہیں اور کہتی ہیں کہ ایسا ان سے شیطان کروارہا ہے۔
(۳) جب کبھی وہ قرآن پڑھتی ہیں وہ لفظوں کو بار بار دہراتی ہیں ، یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ قبول نہیں ہوتے ، مثلاً وہ اللہ اکبر بار بار کہتی رہیں گی اس وقت تک جب تک کہ وہ مطمئن نہ ہوجائیں ، اسی طرح وہ نماز میں تلاوت کرتے ہوئے کرتی ہیں۔
(۴) کچھ عرصے سے وہ اس رقم میں سے جو میرے والد گھر کے خرچ کیلئے ان کو دیتے ہیں جمع کررہی ہیں، ہم خوش حال ہیں ، وہ اب اس جمع شدہ میں کچھ رقم اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتی ہے کیوں کہ ان کے خیال میں یہ ان کی رقم ہے ، میرے والد بہت مذہبی ہیں جو کسی پر کوئی پابندی نہیں لگاتے ، وہ رقم کے بارے میں کبھی خیال نہیں کرتے ہیں ، وہ خود غریبوں کو بہت کچھ دیتے ہیں، کیا میری والدہ کا یہ عمل ، بغیر میرے والد کی آگاہی کے درست ہے؟
(۵) چند سال پہلے میری والدہ نے حج کیا تھا ، حج کے پہلے دن فجر کی نماز سے پہلے (تقریباً تین بجے صبح) حرم شریف کے باہر ایک جگہ ان کو نماز کی ادائیگی کے لئے مل گئی ، نماز میں بیٹھنے سے پہلے انہیں نیند آتی محسوس ہوئی ، (غنودگی سی تھی) جو دو منٹ تک طاری رہی ، بعد میں جگہ پر بہت رش ہوگیا اور وہ وضو نہ کرسکیں ، تو انہوں نے اس وضو سے فجر کی نماز ادا کی ، انہوں نے دریافت کرنا چاہا کہ کیا جانور کی قربانی ان پر فرض ہوگئی ہے پاکستان جانے سے پہلے؟ اور اگر ایسا کرنا ضروری ہے تو اس کا گوشت کہاں جائے گا؟
(۱) اگر پیشاب پاخانہ کی نجاست اپنے مخرج سے متجاوز نہ ہوتی ہو تو اس صورت میں اس مقام کو کسی معمولی کپڑے یا کاغذ وغیرہ کے ذریعہ صاف کرلینا ہی کافی ہے ، اس کے بعد پانی کا استعمال فقط فضیلت حاصل کرنے کیلئے ہے ، لازم اور واجب نہیں، اور اگر نجاست اپنے مخرج سے تجاوز کرکے بقدرِ درہم پھیل گئی ہو تب اس مقام و مخرج کا دھونا شرعاً لازم ہے۔
(۲،۳) مذکور بیماری سے بچنے کیلئے بکثرت تیسرے کلمہ کا ورد نہایت مفید ہے، جبکہ اس دوران کسی معاون کا یاد دلانا بھی اس بیماری میں کمی کا باعث ہے، تاہم دورانِ نماز دوسرے کی یاد دہانی سے احترازلازم ہے۔
(۴) جی ہاں! یہ رقم والدہ محترمہ کی ہی مملوک ہے اس میں سے اُن کا صدقہ و خیرات کرنا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
(۵) محض غنودگی سے وضو نہیں ٹوٹتا اور اس وضو سے ادا شدہ نماز بھی بلاشبہ جائزادا ہوچکی ہے جسے دہرانے یا اس کی جگہ صدقہ وغیرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔