کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ:
(۱) کیا منہ کے ذریعے جنسی عمل کرنا (عضوِ مخصوص کو منہ میں لینا دونوں کا) شوہر یا بیوی کیلئے اسلام میں قابلِ قبول ہے ؟ اگر ہے تو کس حد تک؟
(۲) وضو کن کن حالات میں ٹوٹ جاتا ہے ؟ کیا اس میں (ان حالات میں) اپنے بیوی / شوہر کو پیار کرنا (لبوں سے) اور جذبات سے بھرپور انداز سے پیار کرنا شامل ہے۔
(۳) اگر بغیر مرضی کے اور ارادے کے منی پیشاب کے ذریعہ یا ساتھ نکل جائے تو کیا غسل واجب ہوجائے گا ؟
(۴) کیا مرد کی یا عورت کی نس بندی کرنا/ کروانا (یعنی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت یا طاقت کو ختم کرنا یا روک دینا) اس خیال سے کہ مزید اولاد یا بچے نہ ہوں ، کی اسلام میں اجازت ہے ؟
(۵) اگر کسی شخص پر حکومت ذاتی طور پر بہت زیادہ ٹیکس لگارہی ہے ، تو کیا اس سے بچنے کیلئے غلط بیانی کا سہارا لیا جاسکتا ہے؟ اور ٹیکس بھرنے سے متعلق غلط اطلاع دی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اس بات کا خیال رہے کہ حکومت ٹیکس کی رقم کو حرام کاموں ، افزائش یا نشونما یا زندہ رکھنے کیلئے صرف کررہی ہے مثلاً صحت عامہ کی سہولت ہم جنس پرستوں کیلئے ، شہری سہولتوں کی بہتری اور ترقی کے ساتھ ساتھ۔
میری خواہش ہے کہ آپ ان باتوں کا جواب نیٹ پر دیں اس طرح ان لوگوں کا بھی بھلا ہوجائے گا ، جو شرم و جھجھک کی وجہ سے اس طرح کی باتیں نہیں پوچھ سکتے ، جبکہ یہ مسائل ان کے بھی ہوسکتے ہیں۔ شکریہ
(۱) اس قسم کی حرکات فطرتِ سلیمہ سے دور انتہائی قبیح ہیں ، کسی انسان اور خصوصاً مسلمان کو ایسے عمل سے بہرحال احتراز کرنا چاہئے۔
(۲) وضو کی حالت میں بیوی کے ساتھ بوس و کنار کرنا جائز ہے اس سے وضو نہیں ٹوٹتا البتہ اگر یہ بوس و کنار اتنے جذبات سے ہوں کہ ان کی شرمگاہ سے کچھ رطوبت وغیرہ جاری ہوجائے ، تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا اسی طرح پیشاب یا پاخانے ، ریح کے خارج ہونے ، خون وغیرہ کے نکلنے، منہ بھر اُلٹی کرنے اور لیٹ کر یا سہارا لگا کر سونے وغیرہ سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(۳) پیشاب کرتے وقت جو منی نکلتی ہے اس سے غسل واجب نہیں ہوتا ، البتہ اگر شہوت کے ساتھ نکلے تو اس صورت میں غسل بھی واجب ہوگا۔
(۴) کسی مرد یا عورت کا ہمیشہ کیلئے نسل بندی کرانا یعنی بچہ پیدا ہونے کی صلاحیت ختم کردینا قطعاً جائز نہیں ، البتہ بعض مجبوریوں کی وجہ سے عارضی طور پر کچھ وقت کیلئے بند کرسکتے ہیں مگر یہ عمل بھی کسی ماہر اور دیندار معالج کے مشورے کے بعد جائز ہوگا۔
(۵) اگر حکومت کے خزانہ میں مفادِ عامہ اور رفاہی ضروریات کو پورا کرنے کی گنجائش نہ ہو تو اس سلسلہ میں لوگوں کی استطاعت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان پر بقدرِ ضرورت ٹیکس عائد کرنے کی گنجائش ہے ، مگر مفادِ عامہ کے خلاف اور غیر ضروری بلکہ فحاشی پر مبنی امور کیلئے ٹیکس مقرر کرنا یا شرعی اُمور کیلئے مقرر کردہ ٹیکس سے زائد وصول کرنا قطعاً جائز نہیں ، جس سے بچاؤ کیلئے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
(۱) فی الہندیۃ : فی النوازل اذا أدخل الرجل ذکرہ فی فم امرأتہٖ قد قیل یکرہ و قد قیل بخلافہ کذا فی الذخیرۃ۔(ج۵، ص۳۷۲)۔
(۲) فی المبسوط : ان النبی ﷺ قبّل بعض نسائہ ثم صلی و لم یتوضأ۔(ج۱، ص۶۸)۔
(۳) فی الہدایۃ : و المعانی الموجبۃ للغسل انزال المنی علی وجہ الدفق و الشہوۃ من الرجل و المرأۃ حالۃ النوم و الیقظۃ۔(ج۱، ص۳۱)۔
(۴) فی الفقہ الاسلامی : یجوز استعمال موانع الحمل الحدیثۃ کالحبوب و غیرہا لفترۃ مؤقتہ دون ان یترتب علیہ استئصال امکان الحمل و صلاحیتہ الإنجاب قال الزرکشی یجوز استعمال الدواء لمنع الحبل فی وقت دون وقت کالعزل و لا یجوز التداوی لمنع الحبل باالکلیۃ۔(ج۳، ص۵۵۵)۔
(۵) و فی الہدایۃ : فان ارید بہا ما یکون بحق ککری النہر المشترک و اجر الحارس و المؤظف لتجہیز الجیش و فداء الاساریٰ و غیرہا جازت الکفالۃ بہا علی الاتفاق۔(ج۳، ص۱۰۹)۔
الکذب مباح لأحیاء حقہ و لدفع ظلم عن نفسہ۔(فتح الرحمن : ص۱۹۰)
قال اﷲ تعالٰی : تعاونوا علی البر و التقویٰ و لا تعاونوا علی الاثم۔(الاٰیۃ)۔